Bharat Express DD Free Dish

US Attack on Iran

عالمی سطح پر کمزور اشاروں کے درمیان بھارتی شیئر بازار کی شروعات بدھ کے روز گراوٹ کے ساتھ ہوئی۔ اس دوران سینسیکس 472.96 پوائنٹس یا 0.61 فیصد کی کمی کے ساتھ 76,471.32 اور نفٹی 197.80 پوائنٹس یا 0.82 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 23,858.00 پر تھا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ دینے کی بات کہی تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت ان ممالک اور اداروں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی جا رہی ہے جو تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے۔

امریکی فوجی کارروائی کے بعد ایران نے بحرین اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے تشویش مزید گہری ہو گئی ہے۔

ایران تنازعے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی کانگریس کے بعد اب انتھنی البانیزی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے خلاف کارروائی کے مقصد پر وضاحت طلب کی ہے۔

سابق روسی صدر نے امریکی آپریشن کی کامیابی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی خاطر خواہ فوجی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران ہندوستان کا موقف واضح رہا ہے کہ ہندوستان کسی بھی طرح کی کشیدگی کے خلاف ہے اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے سفارت کاری کے ذریعےمسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملے کے بعد ایران کی سیاسی قیادت، خاص طور پر پارلیمان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

دریں اثنا اسلام آباد نے اس تنازعے کو ختم کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔

جنگ پسند اور قانون شکن امریکی حکومت اس سنگین جارحیت اور اس گھناؤنے جرم کے خطرناک نتائج اور دور رس اثرات کی مکمل ذمہ دار ہے: ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی نمائندے نے اقوام متحدہ کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے ایران کی خودمختاری اور عالمی امن کے اصولوں پر کھلم کھلا حملہ ہیں۔