نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے نام ایک خط لکھ کر ان کے صبر، توازن اور غیر جانبداری کی بھرپور ستائش کی ہے۔ یہ خط اس وقت سامنے آیا جب لوک سبھا میں اسپیکر کے خلاف پیش کیا گیا تحریک عدم اعتماد کا نوٹس ایوان میں مسترد ہو گیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر نہ صرف اسپیکر کی قیادت کو سراہا بلکہ ایوان کے تمام اراکین کو بھی جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے اپنے خط میں کہا کہ جس طرح ایوان نے واضح طور پر اس سیاسی اقدام کو مسترد کیا، وہ پارلیمانی جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ لوک سبھا کے اسپیکر کے طور پر اوم برلا نے جس تحمل، وقار اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں، وہ قابل ستائش ہے اور پارلیمانی روایات کے لیے ایک مثال ہے۔
وزیر اعظم مودی کے خط کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ وزیر اعظم کا پیغام دراصل پارلیمانی جمہوریت کی ان اعلیٰ اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو بھارت کے آئینی نظام کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی اصل روح یعنی مکالمہ، دلیل اور باہمی مشاورت پر یقین رکھا ہے اور یہی اصول جمہوریت کو مضبوط بناتے ہیں۔ اوم برلا نے کہا کہ وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ میں اٹھنے والی ہر آواز کو ملک کے کروڑوں شہریوں کی نمائندگی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پارلیمانی کارروائی کو ترجیح دی ہے اور کوشش کی ہے کہ ایوان میں اٹھائے گئے ہر مسئلے کا حل جمہوری طریقے سے نکالا جائے۔ اسپیکر نے کہا کہ وزیر اعظم کے الفاظ تمام منتخب نمائندوں کے لیے تحریک کا باعث بنیں گے اور آزادی کے مجاہدین اور دستور ساز اسمبلی کے ارکان کی قائم کردہ جمہوری بنیادوں کو مزید مضبوط کریں گے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے خط میں لکھا کہ عدم اعتماد کی تحریک مسترد ہونے کے بعد اسپیکر کی جانب سے ایوان میں دیا گیا بیان انہوں نے توجہ سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ جس وضاحت اور توازن کے ساتھ اوم برلا نے پارلیمانی تاریخ، اسپیکر کی ذمہ داریوں اور قواعد کی بالادستی کا ذکر کیا، وہ نہایت مؤثر تھا۔ وزیر اعظم کے مطابق یہ بیان محض ایک ردعمل نہیں بلکہ بھارتی پارلیمانی روایت اور جمہوری اقدار کی ایک جامع تشریح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت اس کے آئینی ادارے ہیں اور پارلیمنٹ ان اداروں کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ ایوان میں اٹھنے والی ہر آواز کروڑوں شہریوں کی امیدوں اور توقعات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایسے میں لوک سبھا اسپیکر کی ذمہ داری صرف کارروائی چلانے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ جمہوری روایات اور ادارہ جاتی وقار کے محافظ بھی ہوتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے فطری ہے اور خیالات کا تنوع ہی اسے زندہ رکھتا ہے، لیکن اختلاف اور بے احترامی کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات سیاسی اختلافات پارلیمانی وقار کے خلاف رویے میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ایسے مواقع پر اسپیکر کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے حالات میں اوم برلا نے جس صبر، توازن اور غیر جانبداری کے ساتھ صورتحال کو سنبھالا، وہ واقعی قابل تعریف ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پارلیمنٹ مکالمے، دلیل اور باہمی احترام کے ذریعے ملک کی جمہوری روایت کو مزید مضبوط بناتی رہے گی اور عوام کی آواز کو مؤثر طریقے سے سامنے لاتی رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
