خواتین ریزرویشن بل پر وزیر اعظم مودی کریں گے خطاب
نئی دہلی: ملک کی پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 اپریل سے شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں تاریخی خواتین ریزرویشن بل پیش کیا جائے گا۔ اس بل کا مقصد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنا ہے، جسے خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے اس اہم بل پر تفصیلی بحث اور ووٹنگ کے لیے مکمل تیاری کر لی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اس بل پر لوک سبھا میں خطاب کریں گے اور اس کی اہمیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اس اقدام کو خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیں گے۔ دوسری جانب قانون وزیر ارجن میگھوال اس بل کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ دونوں ایوانوں میں اس بل پر ہونے والی بحث کا جواب دیں گے۔ لوک سبھا میں اس بل پر 16 اور 17 اپریل کو بحث اور ووٹنگ ہوگی، جبکہ راجیہ سبھا میں 18 اپریل کو اس پر غور و خوض کے بعد ووٹنگ کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق لوک سبھا میں بحث کے لیے 18 گھنٹے جبکہ راجیہ سبھا میں 10 گھنٹے مختص کیے گئے ہیں۔ بل کے اہم نکات کے مطابق لوک سبھا کی نشستوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 850 مقرر کی جا سکتی ہے، جبکہ اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں نشستوں میں اضافہ 50 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر تیسری نشست خواتین کے لیے مختص ہوگی۔ نشستوں کی نئی تقسیم اور حلقہ بندی کا فیصلہ باضابطہ طور پر ڈیلیمیٹیشن کمیشن کرے گا، جو آبادی کے موجودہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے حلقوں کی حد بندی طے کرے گا۔
یہ بل دراصل لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو ایک تہائی نمائندگی دینے کے ساتھ ساتھ نئی حد بندی کے عمل کو بھی شروع کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ اس کے لیے آئین کی بعض شقوں میں ترمیم کی جائے گی تاکہ نشستوں کی تقسیم موجودہ آبادی کے مطابق کی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف خواتین کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ ہوگا بلکہ پالیسی سازی کے عمل میں بھی ان کی شمولیت مزید مؤثر بنے گی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے اس بل کو تمام جماعتوں کا مشترکہ بل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت خواتین ریزرویشن کی مخالفت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام پارٹیوں اور خواتین نمائندوں سے اس بل کی حمایت کی اپیل کی ہے اور امید ظاہر کی کہ اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر وزیر اعظم مودی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے درمیان بھی بات چیت ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نے کھڑگے سے ملاقات کے دوران اس بل کی حمایت کی اپیل کی، جبکہ کھڑگے نے اس پر پارٹی کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کی بات کہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ بھارتی سیاست میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔ اب سب کی نظریں پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں اس اہم قانون پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


