Bharat Express DD Free Dish

NTA Outsourcing Model: نیٹ پیپر لیک کے بعد این ٹی اے کی کارکردگی پر اٹھے سوال، عمارت سے لے کر پیپر پرنٹنگ تک سب ٹھیکے پر… کیا این ٹی اے کا آؤٹ سورسنگ ماڈل بنا لیک کی وجہ؟

این ٹی اے میں بنیادی انتظامی ڈھانچے سے لے کر اسٹاف، عمارت، پرچہ پرنٹنگ اور دیگر کئی خدمات تک سب کچھ آؤٹ سورس کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دہلی کے اوکھلا انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع این ٹی اے کا ہیڈ آفس بھی کرائے کی عمارت میں چل رہا ہے۔ اس صورتحال نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اتنے حساس اور قومی سطح کے امتحانات کرانے والی ایجنسی کے پاس اپنا مستقل انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچہ کیوں موجود نہیں ہے۔

نئی دہلی: نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک معاملے کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ ملک کے سب سے اہم میڈیکل انٹری امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد اب این ٹی اے کے پورے انتظامی ڈھانچے اور اس کے آؤٹ سورسنگ ماڈل پر بحث چھڑ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں، تعلیمی ماہرین اور طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام کا زیادہ تر حصہ نجی اداروں کے حوالے کرنے کی وجہ سے ہی سکیورٹی میں سنگین خامیاں پیدا ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق این ٹی اے میں بنیادی انتظامی ڈھانچے سے لے کر اسٹاف، عمارت، پرچہ پرنٹنگ اور دیگر کئی خدمات تک سب کچھ آؤٹ سورس کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دہلی کے اوکھلا انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع این ٹی اے کا ہیڈ آفس بھی کرائے کی عمارت میں چل رہا ہے۔ اس صورتحال نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اتنے حساس اور قومی سطح کے امتحانات کرانے والی ایجنسی کے پاس اپنا مستقل انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچہ کیوں موجود نہیں ہے۔

این ٹی اے کا انتظام ایک دس رکنی گورننگ باڈی کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق گورننگ باڈی کے علاوہ مستقل بنیادوں پر بہت کم تقرریاں کی گئی ہیں اور بیشتر کام کنٹریکٹ یا نجی ایجنسیوں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ سوالیہ پرچے تیار کرنے کے لیے مختلف یونیورسٹیوں کے پروفیسروں اور ماہرین کو مدعو کیا جاتا ہے، جبکہ امتحانی عمل کے کئی مراحل بیرونی اداروں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی آن لائن اور آف لائن دونوں طرز کے امتحانات منعقد کراتی ہے۔ این ٹی اے کا قیام سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت ایک ایجنسی کے طور پر کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اسے آئینی ادارے کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی جوابدہی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

این ٹی اے کو پہلی مرتبہ 2019 میں نیٹ یو جی امتحان منعقد کرانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس سے قبل 2018 تک یہ امتحان سی بی ایس ای کے ذریعے کرایا جاتا تھا۔ 2019 کے بعد سے کئی بار امتحانی بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک ہونے کی شکایات سامنے آ چکی ہیں، تاہم اس بار معاملہ انتہائی سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اب یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آخر اتنے اہم امتحان کے سوالیہ پرچوں کی تیاری، پرنٹنگ اور ترسیل جیسے حساس مراحل بیرونی اداروں کے حوالے کیوں کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی امتحان کی ساکھ اور شفافیت کے لیے سوالیہ پرچے کی حفاظت سب سے اہم عنصر ہوتی ہے، لیکن این ٹی اے کے آؤٹ سورسنگ ماڈل نے اسی حصے کو سب سے زیادہ کمزور بنا دیا۔

دوسری جانب این ٹی اے نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ امتحان مکمل سکیورٹی انتظامات کے تحت کرایا گیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق سوالیہ پرچوں کو جی پی ایس ٹریکنگ والے خصوصی گاڑیوں کے ذریعے مختلف مراکز تک پہنچایا گیا اور ہر مرحلے پر سخت حفاظتی پروٹوکول نافذ تھے۔ اس کے باوجود سوالیہ پرچوں کے باہر آنے کے دعوؤں نے پورے نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ راجستھان اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) سمیت کئی تحقیقاتی ایجنسیاں اس معاملے کی جانچ میں مصروف ہیں۔ تحقیقات کے دوران ”پرائیویٹ مافیا“ نامی ایک واٹس ایپ گروپ اور مبینہ ماسٹر مائنڈ منیش یادو کا نام سامنے آیا ہے۔ جانچ ایجنسیاں اب اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ سخت حفاظتی دعوؤں کے باوجود آخر سسٹم میں نقب کیسے لگی اور سوالیہ پرچے امتحان سے پہلے مختلف ریاستوں تک کیسے پہنچے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read