Bharat Express DD Free Dish

NEET Exam Cancellation

نیٹ یو جی 2026 امتحان کے امیدواروں کے لیے اہم اپڈیٹ! این ٹی اے نے 21 جون کو دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ راجستھان کے سیکر سے جڑے پیپر لیک معاملے کے بعد اب سی بی آئی جانچ کے درمیان نئے سرے سے امتحان منعقد کیا جا رہا ہے۔

جانچ ایجنسیوں کے مطابق دونوں بھائیوں نے تقریباً 30 لاکھ روپے میں یہ پرچہ راجستھان کے سیکر ضلع کے رہنے والے راکیش منڈواریا سے خریدا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے یہ پرچہ اپنے خاندان کے کچھ بچوں کو امتحان میں کامیاب کرانے کے مقصد سے حاصل کیا تھا، لیکن بعد میں مالی فائدہ اٹھانے کے لیے اسے دوسرے امیدواروں تک بھی پہنچایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق سی بی آئی نے پونے پولیس کی کرائم برانچ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بدھ کی صبح پونے کے ببوے واڑی علاقے سے منیشا واگھمارے نامی خاتون کو حراست میں لیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں تیسری مشتبہ ملزمہ ہے، جس کے روابط ملک بھر میں پھیلے ایک منظم نیٹ ورک سے جوڑے جا رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مسلسل کئی پوسٹ کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور حکومت پر سخت حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان میں پیپر لیک جیسے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام بدعنوانی اور سیاسی سرپرستی کی گرفت میں ہے۔

این ٹی اے میں بنیادی انتظامی ڈھانچے سے لے کر اسٹاف، عمارت، پرچہ پرنٹنگ اور دیگر کئی خدمات تک سب کچھ آؤٹ سورس کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دہلی کے اوکھلا انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع این ٹی اے کا ہیڈ آفس بھی کرائے کی عمارت میں چل رہا ہے۔ اس صورتحال نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اتنے حساس اور قومی سطح کے امتحانات کرانے والی ایجنسی کے پاس اپنا مستقل انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچہ کیوں موجود نہیں ہے۔

اس معاملے میں دو اہم ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں۔ منیش یادو کو اس پورے نیٹ ورک کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے، جبکہ راکیش منڈاوریا پر پیپر تقسیم کرنے کا الزام ہے۔ راجستھان ایس او جی نے دونوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ منیش یادو کو جے پور سے پکڑا کیا گیا، تاہم اب تک باضابطہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

ملک کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری امتحان نیٹ یو جی 2026 کے پرچہ لیک معاملے نے پورے ملک میں سیاسی اور تعلیمی ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلا جرم ہے۔

طلبہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی ایجنسیاں اس معاملے کی جانچ کریں اور اس میں شامل افراد، امتحانی مافیا اور معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی، جانچ مکمل ہونے تک این ٹی اے پورے معاملے میں شفافیت برقرار رکھتے ہوئے طلبہ اور والدین کے سامنے تمام حقائق واضح کرے۔