Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak Case: نیٹ-یو جی پیپر لیک جانچ پونے پہنچی، سی بی آئی نے ایک خاتون کو حراست میں لیا

اطلاعات کے مطابق سی بی آئی نے پونے پولیس کی کرائم برانچ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بدھ کی صبح پونے کے ببوے واڑی علاقے سے منیشا واگھمارے نامی خاتون کو حراست میں لیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں تیسری مشتبہ ملزمہ ہے، جس کے روابط ملک بھر میں پھیلے ایک منظم نیٹ ورک سے جوڑے جا رہے ہیں۔

نئی دہلی: ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ-یو جی کے مبینہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات اب مہاراشٹر کے شہر پونے تک جا پہنچی ہیں، جہاں مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) نے ایک خاتون کو حراست میں لیا ہے۔ اس کارروائی کو اس بڑے تعلیمی گھوٹالے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ میں شدید بے چینی اور غصہ پیدا کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سی بی آئی نے پونے پولیس کی کرائم برانچ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بدھ کی صبح پونے کے ببوے واڑی علاقے سے منیشا واگھمارے نامی خاتون کو حراست میں لیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں تیسری مشتبہ ملزمہ ہے، جس کے روابط ملک بھر میں پھیلے ایک منظم نیٹ ورک سے جوڑے جا رہے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ یہ گروہ “گیس پیپر” کے نام پر لاکھوں روپے وصول کرکے امتحانی سوالات فروخت کرتا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے کی ابتدائی جانچ راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے شروع کی تھی، جس کے بعد معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کر دی تھیں۔ اب مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں اس ریکیٹ کے پھیلاؤ کے شواہد ملنے کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے بعد نیٹ-یو جی 2026 کا امتحان منسوخ کیے جانے کے فیصلے نے لاکھوں طلبہ کو شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اگرچہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے امتحان دوبارہ کرانے کا اعلان کیا ہے، لیکن بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے ایجنسی کی شفافیت اور ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ادھر یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے، جہاں این ٹی اے کو امتحانی عمل سے ہٹانے اور ایک نئی، آزاد اور تکنیکی طور پر مضبوط ادارہ قائم کرنے کی مانگ کی جا رہی ہے۔ آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشنز کی فیڈریشن (ایف اے آئی ایم اے) کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سی بی آئی کو چار ہفتوں میں اس کیس کی اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ امتحانی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امتحانی نظام پر طلبہ کا اعتماد بحال نہ کیا گیا تو اس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملہ نہ صرف ایک قانونی مسئلہ بن چکا ہے بلکہ یہ ملک کے تعلیمی نظام کی شفافیت پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read