NEET Scam Exposed—CBI Arrest BJP Leaders: ملک کے سب سے بڑے تعلیمی گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ بی جے پی لیڈر اور اس کا بھائی گرفتار، سی بی آئی کی تفتیش میں بوال برادران کا بڑا کردار بے نقاب
جانچ ایجنسیوں کے مطابق دونوں بھائیوں نے تقریباً 30 لاکھ روپے میں یہ پرچہ راجستھان کے سیکر ضلع کے رہنے والے راکیش منڈواریا سے خریدا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے یہ پرچہ اپنے خاندان کے کچھ بچوں کو امتحان میں کامیاب کرانے کے مقصد سے حاصل کیا تھا، لیکن بعد میں مالی فائدہ اٹھانے کے لیے اسے دوسرے امیدواروں تک بھی پہنچایا گیا۔
NEET Paper Leak Case: نیٹ-یو جی پیپر لیک جانچ پونے پہنچی، سی بی آئی نے ایک خاتون کو حراست میں لیا
اطلاعات کے مطابق سی بی آئی نے پونے پولیس کی کرائم برانچ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بدھ کی صبح پونے کے ببوے واڑی علاقے سے منیشا واگھمارے نامی خاتون کو حراست میں لیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں تیسری مشتبہ ملزمہ ہے، جس کے روابط ملک بھر میں پھیلے ایک منظم نیٹ ورک سے جوڑے جا رہے ہیں۔
NEET Paper Leak-Mastermind Manish and Rakesh Detained: نیٹ 2026 پیپر لیک معاملہ: سی بی آئی کی تحقیقات شروع، کئی ریاستوں میں پھیلے نیٹ ورک اور مبینہ ماسٹر مائنڈ کا انکشاف، منیش اور راکیش حراست میں لئے گئے
اس معاملے میں دو اہم ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں۔ منیش یادو کو اس پورے نیٹ ورک کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے، جبکہ راکیش منڈاوریا پر پیپر تقسیم کرنے کا الزام ہے۔ راجستھان ایس او جی نے دونوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ منیش یادو کو جے پور سے پکڑا کیا گیا، تاہم اب تک باضابطہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
Supreme Court On Anil Ambani Loan Fraud Case: انل امبانی کی آر کام لون فراڈ کیس میں سپریم کورٹ کی سخت ہدایت، تیز اور شفاف تحقیقات لازمی
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ ای ڈی اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ معاملے کی حقیقت کھل کر سامنے آئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقات کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس سے عدلیہ اور عوام دونوں کا اعتماد برقرار رہے۔
Supreme Court approves CBI action: بلڈروں اور بینک افسران کی ملی بھگت پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، سی بی آئی کو 22 مقدمات درج کرنے کی اجازت
یہ فیصلہ رئیل اسٹیٹ فراڈ کے خلاف سخت پیغام ہے اور ممکنہ طور پر بلڈروں اور بینکنگ نظام کی ملی بھگت کو بے نقاب کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہو گا۔ خریداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے عدالت کا یہ اقدام نہایت قابلِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے۔





