Bharat Express DD Free Dish

NEET Exam paper leak

نیٹ-یو جی پیپر لیک تنازع کے درمیان مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی تقریباً تین دہائیاں پرانی طلبہ تحریک ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہے۔ مظاہرین 1997 کے اس واقعے کا حوالہ دے رہے ہیں، جب دھرمیندر پردھان خود مبینہ پیپر لیک کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کا حصہ بنے تھے۔

آدتیہ ٹھاکرے نے مزید کہا کہ اگر حکومت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ طلبہ تحریک میں سماج دشمن عناصر شامل ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا انٹیلی جنس نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر سدا بھاؤ کھوت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خود کوئی امتحان پاس نہیں کر سکے،

وزیراعظم مودی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب نیٹ پیپر لیک معاملے پرملک بھر میں طلبہ اور والدین کی جانب سے شدید ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے امتحانی نظام کی شفافیت اور سکیورٹی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے، جس کے بعد حکومت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا۔

کانگریس نے مہنگائی، بے روزگاری اور پیپر لیک جیسے مسائل کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف ملک گیر مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ان عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے مودی حکومت کو سیاسی طور پر گھیرنے کی تیاری میں ہے۔

عدالت نے این ٹی اے کو ہدایت دی کہ وہ مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی موجودہ صورتحال سے متعلق حلف نامہ داخل کرے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین کے رادھا کرشنن بھی ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کریں،

نیٹ یو جی 2026 امتحان کے امیدواروں کے لیے اہم اپڈیٹ! این ٹی اے نے 21 جون کو دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ راجستھان کے سیکر سے جڑے پیپر لیک معاملے کے بعد اب سی بی آئی جانچ کے درمیان نئے سرے سے امتحان منعقد کیا جا رہا ہے۔

جانچ ایجنسیوں کے مطابق دونوں بھائیوں نے تقریباً 30 لاکھ روپے میں یہ پرچہ راجستھان کے سیکر ضلع کے رہنے والے راکیش منڈواریا سے خریدا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے یہ پرچہ اپنے خاندان کے کچھ بچوں کو امتحان میں کامیاب کرانے کے مقصد سے حاصل کیا تھا، لیکن بعد میں مالی فائدہ اٹھانے کے لیے اسے دوسرے امیدواروں تک بھی پہنچایا گیا۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مسلسل کئی پوسٹ کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور حکومت پر سخت حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان میں پیپر لیک جیسے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام بدعنوانی اور سیاسی سرپرستی کی گرفت میں ہے۔

این ٹی اے میں بنیادی انتظامی ڈھانچے سے لے کر اسٹاف، عمارت، پرچہ پرنٹنگ اور دیگر کئی خدمات تک سب کچھ آؤٹ سورس کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دہلی کے اوکھلا انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع این ٹی اے کا ہیڈ آفس بھی کرائے کی عمارت میں چل رہا ہے۔ اس صورتحال نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اتنے حساس اور قومی سطح کے امتحانات کرانے والی ایجنسی کے پاس اپنا مستقل انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچہ کیوں موجود نہیں ہے۔

ٹاپ کرنے والوں میں راجستھان سے چار، مہاراشٹر کے تین، دہلی اور اتر پردیش سے دو دو امیدوار ہیں۔ جبکہ دیگر چھ کا تعلق کیرالہ، چنڈی گڑھ، تمل ناڈو، پنجاب، بہار اور مغربی بنگال سے ہے۔