نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے سے متعلق قانون کی متعدد دفعات پر عمل درآمد سے چھوٹ دے دی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کے لیے امریکہ کے قومی مفاد کا حوالہ دیا ہے۔ اس قانون میں چین اور ہندوستان جیسے ممالک سے امریکہ آنے والی اشیا پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے ہندوستان پر ممکنہ امریکی ٹیرف کا خطرہ فی الحال ٹل سکتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے قانون میں دی گئی چھوٹ کی شق کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے امریکی کانگریس کو یہ تصدیق کر دی ہے کہ موجودہ حالات میں پابندیوں اور ٹیرف سے متعلق کارروائی میں چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔
ہندوستان پر کیا ہوگا اثر؟
ہندوستان روس سے خام تیل خریدتا رہا ہے۔ ایسے میں اگر امریکہ ہندوستانی اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کرتا تو اس کا اثر ہندوستانی برآمد کنندگان اور امریکی بازار میں کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر پڑ سکتا تھا۔ فی الحال دی گئی چھوٹ سے ہندوستان پر اضافی ٹیرف عائد ہونے کا خطرہ ٹلتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم، یہ راحت مستقبل کی امریکی پالیسی پر منحصر ہوگی۔ اگر امریکہ آنے والے وقت میں اپنی پالیسی تبدیل کرتا ہے تو ہندوستان کو دوبارہ اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے انتظامی حکم میں کیا کہا؟
امریکہ میں یہ قانون روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کے مقصد سے لایا گیا تھا، تاکہ یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی اس کی صلاحیت کو متاثر کیا جا سکے۔ اس قانون کے تحت امریکی صدر کو اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔ وہ اس اختیار کا استعمال روس کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو سزا دینے کے لیے کر سکتے تھے۔وائٹ ہاؤس کے پاس پابندیاں عائد کرنے یا ان میں رعایت دینے کے وسیع اختیارات ہیں۔ نئے قانون کے مطابق، اگر صدر ٹرمپ روس پر معاشی پابندیاں نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں صرف کانگریس کو اس کی اطلاع دینی ہوگی۔
قانون کے نافذ ہونے میں دو دن باقی رہنے کے دوران ٹرمپ نے اسی اختیار کا استعمال کیا۔ اپنے حکم میں انہوں نے کہا، ’’میں اس کے تحت گراہم ایکٹ میں مقرر کردہ پابندیوں، قدغنوں اور محصولات کے نفاذ سے چھوٹ دیتا ہوں۔ میں نے کانگریس کو تصدیق کرکے مطلع کیا ہے کہ اس وقت ایسی چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔‘‘ٹرمپ کے اس فیصلے سے ہندوستان کو فی الحال ممکنہ امریکی ٹیرف سے راحت مل سکتی ہے، تاہم مستقبل میں روس سے تجارت کے معاملے پر امریکی پالیسی میں تبدیلی کی صورت میں صورت حال دوبارہ بدل سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

