Bharat Express DD Free Dish

India-US Tariff Tension

رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانون صرف روس سے توانائی خریدنے والے ممالک تک محدود نہیں ہوگا بلکہ روسی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور روس کے دفاعی صنعتی شعبے کی مدد کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی ممکنہ پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔روس سے توانائی خریدنے والے بڑے ممالک پر ٹیرف کی حتمی شرح امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر طے کریں گے

اس مجوزہ قانون کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑنے کا خدشہ ہے جو روس سے بڑی مقدار میں توانائی درآمد کرتے ہیں۔ ان میں بھارت اور چین کے علاوہ جاپان اور یورپ کے بعض ممالک بھی شامل ہیں۔ قانون نافذ ہونے کی صورت میں امریکی صدر ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر سکیں گے۔اس بل کے اہم حامیوں میں ریپبلکن پارٹی کے معروف سینیٹر اور یوکرین کے مضبوط حامی مرحوم لنڈسے گراہم بھی شامل تھے۔ ا

یہ کارروائی 12 مارچ کو شروع ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 60 معیشتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران دو مرحلوں میں عوامی سماعتیں ہوئیں، 45 سے زائد حکومتوں سے مشاورت کی گئی، 2,100 سے زیادہ عوامی تجاویز موصول ہوئیں اور 100 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔یو ایس ٹی آر نے 2 جون کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تمام 60 معیشتوں کی پالیسیاں ’’غیر منصفانہ‘‘ ہیں اور امریکی تجارت پر منفی اثر ڈالتی ہیں،

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سیکشن 232 کے تحت نئی تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔ بڑی بیٹریوں، کیمیکل مصنوعات اور صنعتی آلات پر ممکنہ ٹیرف بھارت جیسے ممالک کی برآمدات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی امریکی دھمکیوں کے درمیان بھارت کے لیے واشنگٹن سے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مجوزہ سخت تجارتی پالیسی کا اصل ہدف بھارت نہیں بلکہ چین ہے۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں پہنچ کر کیوں رک گیا، اس پر اب ایک چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ اس تعطل کی اصل وجہ کوئی پالیسی اختلاف نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انا ہے، جو اس وقت مجروح ہو گئی جب بھارتی وزیر اعظم مودی نے انہیں براہِ راست فون نہیں کیا۔

امریکہ ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت روس سے تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف سخت پابندیوں سے متعلق ایک نئے قانون کی تیاری نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قانون کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جہاں سینسیکس تقریباً 750 پوائنٹس تک لڑھک گیا جبکہ نفٹی میں بھی 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ بھارتی برآمدات کو بڑا دھچکا لگے گا، لیکن نومبر کے تازہ اعداد و شمار نے اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ دو ماہ کی مسلسل گراوٹ کے بعد بھارت نے امریکی منڈی میں شاندار واپسی کی ہے اور برآمدات میں اچانک 22 فیصد سے زائد اضافہ درج کیا گیا ہے۔