Bharat Express DD Free Dish

India-US Tariff Tension

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ بھارتی برآمدات کو بڑا دھچکا لگے گا، لیکن نومبر کے تازہ اعداد و شمار نے اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ دو ماہ کی مسلسل گراوٹ کے بعد بھارت نے امریکی منڈی میں شاندار واپسی کی ہے اور برآمدات میں اچانک 22 فیصد سے زائد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

برائنٹ نے کہا کہ مسئلہ روزنیفٹ پر عائد حالیہ پابندیوں کا تھا اور یہ کہ برطانیہ نے جرمنی کے ساتھ اپنے مسائل حل کر لیے ہیں اور امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ گوئل نے ان سے پوچھا کہ پھر ہندوستان کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

اسی مسئلے پر MNM پارٹی کے بانی اور رکن پارلیمان کمل ہاسن نے بھی مرکز اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی برآمد کنندگان کے لیے فوری ریلیف اقدامات متعارف کرائیں، تاکہ وہ بین الاقوامی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھ سکیں۔

بولٹن نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے پاک بھارت تنازعہ کا پورا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھی تو پہلے تو حالات خراب ہوئے لیکن بعد میں پرسکون ہوگئے۔ ٹرمپ نے اس کا پورا کریڈٹ لیا اور کہا کہ انہوں نے اس سال چھ یا سات جنگوں کو روکا جس کے لیے وہ امن کے نوبل انعام کے حقدار ہیں۔ اس سے بھارت سخت ناراض ہے۔

پی ایم مودی نے عوام پر زور دیا کہ وہ صرف ’میڈ ان انڈیا‘ مصنوعات خریدیں اور تاجروں سے کہا کہ اپنی دکانوں پر نمایاں طور پر لکھیں کہ وہ صرف ’سودیشی‘ مال فروخت کرتے ہیں۔