Bharat Express DD Free Dish

US New Tariffs Section: امریکہ نئے ٹیرف عائد کرنے کی تیاری میں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کی نئی حکمت عملی، بھارت کی برآمدات کو خطرہ

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سیکشن 232 کے تحت نئی تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔ بڑی بیٹریوں، کیمیکل مصنوعات اور صنعتی آلات پر ممکنہ ٹیرف بھارت جیسے ممالک کی برآمدات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ٹرمپ حکومت کی جانب سے عائد کئی ٹیرف ختم کر دیے ہیں۔ اس کے بعد اب امریکہ بعض نئی مصنوعات پر بھاری درآمدی محصولات عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

کن مصنوعات پر اثر پڑے گا

رپورٹس کے مطابق بڑی بیٹریاں، کاسٹ آئرن، پلاسٹک پائپ، صنعتی کیمیکل، پاور گرڈ اور ٹیلی کام آلات جیسے شعبے اس دائرے میں آ سکتے ہیں۔ اگر یہ ٹیرف نافذ کیے جاتے ہیں تو بھارت جیسے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دھات اور صنعتی پرزہ جات کی برآمدات پر اس کا اثر پڑنے کا امکان ہے۔

سیکشن 232 کا استعمال

یہ ٹیرف 1962 کے تجارتی قانون کے سیکشن 232 کے تحت عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اس قانون کے تحت صدر کو قومی سلامتی کے نام پر درآمدات پر محصولات لگانے کا اختیار حاصل ہے۔ اس سے قبل اسٹیل، ایلومینیم اور آٹو پارٹس پر بھی اسی سیکشن کا استعمال کیا جا چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا بیان

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے لیے قومی اور معاشی سلامتی سب سے بڑی ترجیح ہے اور انتظامیہ اپنے تمام قانونی اختیارات استعمال کرے گی۔

عدالت کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں لگائے گئے بیشتر ٹیرف ختم کر دیے، تاہم سیکشن 232 پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ نئی تحقیقات کب شروع ہوں گی اور ٹیرف کب نافذ کیے جائیں گے۔

بھارت پر ممکنہ اثرات

اس سے پہلے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد ٹیرف کے جواب میں بھارت سمیت کئی ممالک نے جوابی اقدامات کیے تھے۔ اگر نئے ٹیرف نافذ ہوتے ہیں تو بھارت کی عالمی سپلائی چین اور برآمدی شعبے پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read