Bharat Express DD Free Dish

India-US Tariff War

یہ کارروائی 12 مارچ کو شروع ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 60 معیشتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران دو مرحلوں میں عوامی سماعتیں ہوئیں، 45 سے زائد حکومتوں سے مشاورت کی گئی، 2,100 سے زیادہ عوامی تجاویز موصول ہوئیں اور 100 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔یو ایس ٹی آر نے 2 جون کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تمام 60 معیشتوں کی پالیسیاں ’’غیر منصفانہ‘‘ ہیں اور امریکی تجارت پر منفی اثر ڈالتی ہیں،

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سیکشن 232 کے تحت نئی تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔ بڑی بیٹریوں، کیمیکل مصنوعات اور صنعتی آلات پر ممکنہ ٹیرف بھارت جیسے ممالک کی برآمدات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی امریکی دھمکیوں کے درمیان بھارت کے لیے واشنگٹن سے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مجوزہ سخت تجارتی پالیسی کا اصل ہدف بھارت نہیں بلکہ چین ہے۔

امریکہ ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت روس سے تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف سخت پابندیوں سے متعلق ایک نئے قانون کی تیاری نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قانون کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جہاں سینسیکس تقریباً 750 پوائنٹس تک لڑھک گیا جبکہ نفٹی میں بھی 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ بھارتی برآمدات کو بڑا دھچکا لگے گا، لیکن نومبر کے تازہ اعداد و شمار نے اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ دو ماہ کی مسلسل گراوٹ کے بعد بھارت نے امریکی منڈی میں شاندار واپسی کی ہے اور برآمدات میں اچانک 22 فیصد سے زائد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

پی ایم مودی نے ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایکس  پر لکھا کہ وہ امریکی صدر کے جذبات اور تعلقات کے مثبت جائزے کی گہری قدر کرتے ہیں اور اس کا مکمل طور پر ساتھ دیتے ہیں۔

بولٹن نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے پاک بھارت تنازعہ کا پورا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھی تو پہلے تو حالات خراب ہوئے لیکن بعد میں پرسکون ہوگئے۔ ٹرمپ نے اس کا پورا کریڈٹ لیا اور کہا کہ انہوں نے اس سال چھ یا سات جنگوں کو روکا جس کے لیے وہ امن کے نوبل انعام کے حقدار ہیں۔ اس سے بھارت سخت ناراض ہے۔

امریکی عدالت کے اس فیصلے کو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے، اگرچہ عدالت نے ٹیرف کو 14 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔