Bharat Express DD Free Dish

US President Donald Trump: جبری مشقت سے تیار مصنوعات کے خلاف امریکی کارروائی، بھارت پر دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں کم ٹیرف عائد

یہ کارروائی 12 مارچ کو شروع ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 60 معیشتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران دو مرحلوں میں عوامی سماعتیں ہوئیں، 45 سے زائد حکومتوں سے مشاورت کی گئی، 2,100 سے زیادہ عوامی تجاویز موصول ہوئیں اور 100 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔یو ایس ٹی آر نے 2 جون کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تمام 60 معیشتوں کی پالیسیاں ’’غیر منصفانہ‘‘ ہیں اور امریکی تجارت پر منفی اثر ڈالتی ہیں،

نئی دہلی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے سیکشن 301 کے تحت جبری مشقت (فورسڈ لیبر) سے تیار کی جانے والی مصنوعات کے خلاف نئی تجارتی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے بھارت پر نسبتاً کم یعنی 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے تحقیقات کے دوران جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی کا مؤثر نظام نافذ کیا، اسی لیے اسے ان ممالک کے مقابلے میں زیادہ رعایت دی گئی ہے جہاں زیادہ ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔امریکی تجارتی نمائندہ دفتر (یو ایس ٹی آر) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر 60 معیشتوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف نافذ کیے جا رہے ہیں، کیونکہ ان ممالک نے جبری مشقت سے تیار مصنوعات پر پابندی عائد کرنے یا اس پر مؤثر عمل درآمد کرنے میں ناکامی دکھائی۔یہ نئے محصولات 24 جولائی سے نافذ ہوں گے اور متعلقہ ممالک کی پالیسیوں کی بنیاد پر 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہوں گے۔ بھارت ان 17 معیشتوں میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد کا کم ترین ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش، کینیڈا، انڈونیشیا، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔

یو ایس ٹی آر کے مطابق جون میں مجوزہ کارروائی سامنے آنے کے بعد بھارت نے جبری مشقت سے تیار مصنوعات کی درآمد پر پابندی نافذ کی، جس کے باعث اسے کم ٹیرف والے زمرے میں رکھا گیا۔امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ کئی دہائیوں کی اخلاقی اپیلوں کے باوجود عالمی سپلائی چین سے جبری مشقت کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ تقریباً ایک صدی سے ایسی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرے تجارتی شراکت دار بھی اسی طرز پر عمل کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عالمی تجارت میں پیدا ہونے والی بے ضابطگیوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق جن ممالک نے تیزی سے نئی پابندیاں نافذ کی ہیں، ان سے مؤثر عمل درآمد کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

یہ کارروائی 12 مارچ کو شروع ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 60 معیشتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران دو مرحلوں میں عوامی سماعتیں ہوئیں، 45 سے زائد حکومتوں سے مشاورت کی گئی، 2,100 سے زیادہ عوامی تجاویز موصول ہوئیں اور 100 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔یو ایس ٹی آر نے 2 جون کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تمام 60 معیشتوں کی پالیسیاں ’’غیر منصفانہ‘‘ ہیں اور امریکی تجارت پر منفی اثر ڈالتی ہیں، اس لیے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔بھارت کے علاوہ کمبوڈیا، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو نے بھی تحقیقات شروع ہونے کے بعد جبری مشقت سے تیار مصنوعات پر پابندی نافذ کی، جبکہ اردن نے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے تحت ایسے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

دوسری جانب چین، آسٹریلیا، برازیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ویتنام اور جنوبی افریقہ سمیت بیشتر دیگر ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ اور تائیوان کے لیے موجودہ ’’موسٹ فیورڈ نیشن‘‘ (MFN) ڈیوٹی کی شرحوں میں رد و بدل کر کے نئی شرحیں مقرر کی جائیں گی۔امریکہ نے بعض اشیا کو اس اقدام سے مستثنیٰ بھی قرار دیا ہے، جن میں منتخب خام مال، گھریلو سپلائی چین کے لیے اہم مصنوعات، ادویات، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات اور دیگر ضروری سامان شامل ہیں، تاکہ امریکی معیشت یا سپلائی چین متاثر نہ ہو۔یو ایس ٹی آر کے مطابق یہ اقدام امریکہ کے 60 بڑے تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہوگا، جو امریکی درآمدات کا تقریباً 99.4 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد عالمی سپلائی چین سے جبری مشقت کا خاتمہ کرنا اور دیگر ممالک کو بھی امریکہ کی طرز پر درآمدی پابندیوں کا نظام اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read