Bharat Express DD Free Dish

Tariff

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ایسے ممالک کو استثنیٰ دیا جا سکتا ہے جن کی روس سے قدرتی گیس کی درآمد، روس کی مجموعی گیس برآمدات کے 15 فیصد سے کم ہو اور جو ان درآمدات کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہوں۔

یہ کارروائی 12 مارچ کو شروع ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 60 معیشتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران دو مرحلوں میں عوامی سماعتیں ہوئیں، 45 سے زائد حکومتوں سے مشاورت کی گئی، 2,100 سے زیادہ عوامی تجاویز موصول ہوئیں اور 100 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔یو ایس ٹی آر نے 2 جون کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تمام 60 معیشتوں کی پالیسیاں ’’غیر منصفانہ‘‘ ہیں اور امریکی تجارت پر منفی اثر ڈالتی ہیں،

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ٹیرف اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا اور متعلقہ حکام جلد تفصیلی رہنما ہدایات جاری کریں گے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایک مکمل دوطرفہ تجارتی معاہدے کی سمت پیش رفت جاری رکھیں گے،

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعے 25 فیصد اضافی ٹیرِف عائد کرنے کے امریکی فیصلے پر تنقید کی۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ ’’کسی بھی غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں اور کسی کے دائرۂ اختیار میں زبردستی مداخلت‘‘ کی مخالفت کرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف سخت پابندیوں سے متعلق ایک نئے قانون کی تیاری نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قانون کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جہاں سینسیکس تقریباً 750 پوائنٹس تک لڑھک گیا جبکہ نفٹی میں بھی 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

دو سلیب ٹیکس ڈھانچے کی آئندہ جی ایس ٹی سلیب کو معقول بنانے سے توقع ہے کہ گاڑیوں، مالیاتی خدمات، سیمنٹ، اور صارفین کے اسٹیپل جیسے شعبوں میں کھپت میں اضافہ اور منافع میں بہتری آئے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ہندوستان سے درآمد ہونے والی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ پہلے سے لاگو 25 فیصد ٹیرف کے علاوہ ہے جو 20 جولائی سے لاگو تھا۔ اس طرح کل ٹیرف اب 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس کی وجہ ہندوستان کی طرف سے روسی خام تیل کی مسلسل درآمد کو بتایا ہے۔

جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ چین روس سے تیل بھی خریدتا ہے تو پھر بھارت کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا کہ ہم بھارت پر سیکنڈری سینکشن لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایسا کئی دوسرے ممالک پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک چین بھئی ہو سکتا ہے۔

شام 41 فیصد ٹیرف کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہے۔ لاؤس اور میانمار پر بھی 40 فیصد کا بھاری ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ پر بھی 39 فیصد کا بھاری ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ عراق اور سربیا پر 35 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ فہرست کے مطابق برازیل اور برطانیہ پر 10 فیصد اور نیوزی لینڈ پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ بھارت کی ٹیرف لسٹ میں تبدیلی نہ ہونا امریکہ بھارت تعلقات میں تناؤ کی علامت ہے۔

حزب اختلاف نے ٹرمپ کی طرف سے بھارت پر لگائے گئے اس ٹیرف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہندوستان پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کے بعد حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ملک کو چلانا نہیں جانتی۔ اس حکومت نے ملک کی پوری معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔