Bharat Express DD Free Dish

new tariff threat

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مبینہ ’جبری مشقت‘ (Forced Labour) کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت سمیت تقریباً 60 ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف (درآمدی محصول) عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کو عالمی تجارتی حلقوں میں ایک بڑے معاشی دباؤ کے حربے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات بھارتی برآمدات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سیکشن 232 کے تحت نئی تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔ بڑی بیٹریوں، کیمیکل مصنوعات اور صنعتی آلات پر ممکنہ ٹیرف بھارت جیسے ممالک کی برآمدات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کو غیر معمولی اور سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے حکم دیا ہے کہ کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت روس سے تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف سخت پابندیوں سے متعلق ایک نئے قانون کی تیاری نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قانون کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جہاں سینسیکس تقریباً 750 پوائنٹس تک لڑھک گیا جبکہ نفٹی میں بھی 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’اگر بھارت نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی تو اسے بھاری قیمت چکانی ہوگی‘‘۔ بھارت نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے شہریوں کے مفاد میں سستا تیل خرید رہے ہیں، کسی ملک کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔