نئی دہلی: ملک کی بڑی مسلم تنظیموں، مذہبی رہنماؤں اورسول سوسائٹی کے نمائندہ افراد نے فلسطین کے بحران پرایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس میں بھارتی حکومت اورعالمی طاقتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غزہ میں جاری ظلم وبربریت کوروکنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ ہم بھارت کی مسلم تنظیموں کے رہنما، مذہبی علماء اورملک کے امن پسند شہری، غزہ میں جاری نسل کشی اورانسانیت سوزبحران کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم 20 کروڑسے زائد بھارتی مسلمانوں اوروطن عزیزکے تمام امن پسند شہریوں کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہارکرتے ہیں۔ ہم حکومتِ ہند، عالمی رہنماؤں اوردنیا بھرکے باضمیرانسانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم کے خلاف آوازبلند کریں اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
مشترکہ بیان میں ان شخصیات کا نام ہے شامل
فلسطین کے بحران پرایک مشترکہ بیان جاری کرنے والوں میں مولانا ارشد مدنی (صدرجمیعۃ علماء ہند)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)، سید سعادت اللہ حسینی (امیر، جماعت اسلامی ہند)، مولانا علی اصغرامام مہدی (امیر، مرکزی جمیعت اہل حدیث)، مولانا حکیم الدین قاسمی (جنرل سیکریٹری، جمیعۃ علماء ہند محمود مدنی گروپ)، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی (امیرشریعت، امارت شریعہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال)، مفتی مکرم احمد (امام، شاہی جامع مسجد، فتحپوری)، مولانا عبیداللہ خان اعظمی (سابق راجیہ سبھا ایم پی)، ملک معتصم خان (نائب امیر، جماعت اسلامی ہند)، ڈاکٹرمحمد منظورعالم (جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل)، ڈاکٹر ظفرالاسلام خان (سابق چیئرمین، دہلی مائنریٹی کمیشن)، عبد الحفیظ (صدر، ایس آئی اوآف انڈیا)، مولانا محسن تقوی (معروف شیعہ خطیب و عالم دین)، پروفیسراختر الواسع (سابق وائس چانسلر، مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور) شامل ہیں۔
غزہ میں سنگین بحرانی کیفیت
فلسطینی عوام پرجاری جارحانہ اسرائیلی حملے منظم نسل کشی کی صورت اختیارکرچکے ہیں، ان حملوں میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزیں کیمپوں کو نشانہ بنایاجا رہا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً ایک لاکھ معصوم فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اوربچوں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جارحانہ اسرائیلی بمباری کے سبب غزہ کے 90 فیصد طبی مراکزیا تو پوری طرح تباہ ہو چکے ہیں یا ناکارہ ہوچکے ہیں، اس وقت پورے غزہ میں گنتی کے چند غذائی مراکزبچے ہیں جو 20 لاکھ سے زائد افراد کی ضرورتوں کی تکمیل کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ 17,000 سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں جبکہ اس جنگ نے پانچ لاکھ سے زائد بچوں کوتعلیم سے محروم کردیا ہے۔ ایک جانب غزہ میں اتنی سنگین بحرانی کیفیت ہے اوردوسری جانب ہزاروں ٹن خوراک اورطبی امداد سرحدوں پر روک دی گئی ہے، پانی وصفائی کے نظام کی تباہی کے سبب غزہ میں مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ اگرفوری طورپرناکہ بندی ختم نہ کی گئی توغزہ میں مکمل طورپرقحط سالی کا خطرہ ہے۔
عالمی طاقتوں سے کیا گیا یہ بڑا مطالبہ
ایسی صورت میں عالمی برادری کی خاموشی نا قابل قبول ہے۔ ہم عالمی طاقتوں اورتمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ عسکری واقتصادی تعلقات منقطع کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اسرائیل کے غیرقانونی قبضے کے خاتمہ کے مطالبے کی حمایت کریں۔ ہم تمام مسلم ممالک سے بھی پرزوراپیل کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل اورامریکہ پردباؤ بنائیں تاکہ غزہ میں جاری نسل کشی کوروکا جا سکے۔ تاریخی اعتبارسے ہمارا ملک ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہا ہے؛ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پوری قوت سے اس تاریخی روایت کی پاسداری کریں۔ ہم اپنی حکومتِ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کی اخلاقی اورسفارتی روایت کا احترام کرے، کھل کراسرائیل کی سفاکانہ کارروائیوں کی مذمت کرے، اس کے ساتھ عسکری اوراسٹریٹجک تعلقات کومعطل کرے۔ فلسطینی عوام کی جائزجدوجہد میں ان کا ساتھ دے اورعالمی سطح پرخطہ میں امن واستحکام کی کوششوں میں بھرپورحصہ لے۔ ہم اپنی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انسانی بنیادوں پرغزہ کے مظلومین کے لیے فوری امداد کا انتظام کرے اورغزہ میں خوراک، پانی، ایندھن اورطبی سامان کی ترسیل کے لیے کی جارہی سفارتی کوششوں میں بھرپورحصہ لے۔
مذہبی رہنماؤں اورسول سوسائٹی نے عام شہریوں اوراداروں سے کی یہ اپیل
ہم عام شہریوں اوراداروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی مصنوعات اوران کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں جوکسی بھی طریقے سے اس نسل کشی میں شریک ہیں۔ سول سوسائٹیز، تعلیمی ادارے اورمذہبی تنظیمیں ملک میں مظلوموں کی آوازبنیں اورفلسطینی جدوجہد کے خلاف پھیلائے جارہے پروپیگنڈے اورجھوٹے بیانیے کوبے نقاب کریں۔ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فلسطین کے لیے جاری پُرامن اورقانونی مزاحمت میں پرجوش شرکت کریں۔ غزہ کے لیے یکجہتی مارچ، بیداری مہمات، علمی مذاکروں، اوربین المذاہب تقاریب کا اہتمام کیا جائے تاکہ یہ پیغام جائے کہ ہندوستانی ضمیرخاموش نہیں ہے۔ اس بات کوبھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو ریاستی ہراسانی یا دباؤکا سامنا نہ کرنا پڑے اورہرشہری کواظہارِرائے کی آزادی حاصل رہے۔
بے گناہ انسانوں کی نسل کشی اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت
یہ بات بے حد اہم ہے کہ اس تنازعہ کے سلسلے میں ہمارا موقف وقتی سیاسی مفادات کے بجائے آئین میں درج اصولوں اورہماری تہذیبی اور اخلاقی قدروں پرمبنی ہو۔ بے گناہ انسانوں کی نسل کشی کے وقت خاموشی یا غیرجانب داررہنا سفارت کاری نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم غزہ کے عوام کے ساتھ کھل کریکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔ ہمارے اقدامات انصاف کے تقاضوں اورانسانی ہمدردی کی ہماری روایت سے ہم آہنگ ہوں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیرہوجائے، ہمیں ایک ہوکراس نسل کشی کوروکنے کے لیے آوازاٹھانا ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


