مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھا ہے، جس میں سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ اور سائبر کرائمز میں خطرناک حد تک اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس مسئلے کو ’’اجتماعی چیلنج‘‘ قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں امن عامہ، قومی اتحاد اور ملک کی جمہوریت کی سالمیت کے تحفظ کے لیے فوری اور مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔
ممتا بنرجی نے خط میں لکھا ہے کہ ’’حالیہ دنوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اشتعال انگیز اسٹوریز، گمراہ کن کہانیاں اور فرضی ویڈیوز معاشرے کے بعض طبقوں میں مجرمانہ رجحانات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح کا مواد نہ صرف غلط معلومات پھیلاتا ہے، بلکہ اس میں فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے، خواتین کے خلاف تشدد اور جرائم کو بھڑکانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔‘‘
سائبر کرائم میں ہو رہا ہے لگاتار اضافہ
انھوں نے مزید کہا کہ ’’ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کی فوری اور وسیع نوعیت ان اثرات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔‘‘ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سائبر کرائم کا خطرہ بھی لگاتار بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا ’’اشتعال انگیز سوشل میڈیا پوسٹس اور سائبر کرائمز دونوں غیر متناسب طور پر معاشرے کے کمزور طبقوں، خواتین، بچوں، بوڑھوں اور معاشی طور پر کمزور پس منظر والے افراد کو متاثر کرتے ہیں، جو اکثر اس طرح کے نقصانات کی شناخت، مقابلہ کرنے یا اس سے نجات کے لیے کم تیار ہوتے ہیں۔‘‘
ممتا بنرجی نے اس سلسلے میں سخت قانون سازی کی دفعات کی فوری ضرورت پر زور دیا، تاکہ اشتعال انگیز مواد کی تخلیق اور پھیلاؤ اور سائبر اسپیس میں مجرمانہ ارادے کے ساتھ انجام پانے والی کارروائیوں کے خلاف ایک مؤثر روک تھام عمل میں آ سکے۔ جمعرات کو امت شاہ کے نام اپنے خط میں انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں موجودہ قوانین کو مزید مضبوط اور سخت بنانے کی ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



