Bharat Express DD Free Dish

کیا آج ٹوٹ جائے گی ادھوٹھاکرے کی شیوسینا؟ باغی ممبران پارلیمنٹ کی پریس کانفرنس پر نظریں مرکوز، ایکناتھ شندے سے بھی ملاقات کا منصوبہ

شیوسینا یوبی ٹی کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ آج الگ گروپ کا باضابطہ اعلان کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، باغی اراکین پارلیمنٹ ایک پریس کانفرنس کریں گے اور اس دوران شیوسینا یوبی ٹی کے الگ ہونے کی وجہ بھی بتائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی خبر ہے کہ باغی اراکین نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے سے بھی ملاقات کریں گے۔

نئی دہلی: گزشتہ کئی دنوں سے مہاراشٹرکی سیاست سرخیوں میں بنی ہوئی ہے۔ ادھوٹھاکرے گروپ والی شیوسینا (یوبی ٹی) میں اندرونی رسہ کشی چل رہی ہے۔ مسلسل ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ پارٹی کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ پارٹی بدل کرایکناتھ شندے کی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اسے آپریشن ٹائیگرنام دیا گیا ہے۔

اس درمیان خبر ہے کہ باغی اراکین پارلیمنٹ آج باضابطہ طورپریوبی ٹی سے الگ ہونے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اگرایسا ہوتا ہے توادھوٹھاکرے کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہوگا۔ شیوسینا (یوبی ٹی) کے کل 9 لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ میں سے 6 اراکین باغی ہوگئے ہیں۔ ان میں سنجے جادھو، بھاو صاحب واچکرے، سنجے دیشمکھ، ناگیش پاٹل آشٹیکر، سنجے دینا پاٹل اوراومراجے نمبالکرشامل ہیں۔

یوبی ٹی سے الگ ہونے کا باضابطہ اعلان

 ذرائع کے مطابق، کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد شیوسینا (یوبی ٹی) میں ہوئی تقسیم کا باضابطہ اعلان آج ہونے کا امکان ہے، جس میں سبھی 6 باغی اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کوخطاب کئے جانے کی امید ہے۔ خبرہے کہ اس دوران باغی اراکین پارلیمنٹ سے الگ ہونے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ آج ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد تصویرپوری طرح صاف ہوجائے گی۔

باغی اراکین بتائیں گے یوبی ٹی سے الگ ہونے کی وجہ

خبروں کے مطابق، باغی اراکین پارلیمنٹ پریس کانفرنس کے دوران لوک سبھا اسپیکر سے ہوئی ملاقات کا ویڈیواورتصویر جاری کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی اسپیکرکوسونپے گئے خط کی کاپی بھی عوامی کی جائے گی۔ مانا جا رہا ہے کہ پریس کانفرنس میں یہ اراکین پارلیمنٹ بتائیں گے کہ کن حالات میں انہیں یوبی ٹی گروپ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ جانکاری کے مطابق، 6 اراکین پارلیمنٹ میں سے دواراکین چنئی سے ممبئی پہنچیں گے، جبکہ دو اراکین پارلیمنٹ کولکاتا سے آئیں گے۔ ایک رکن پارلیمنٹ پہلے سے ہی ممبئی میں موجود ہیں اورایک رکن پارلیمنٹ پنے میں ہیں۔ سبھی اراکین کے ایک ساتھ آنے کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read