Bharat Express DD Free Dish

Eknath Shinde

اس تاریخی پروگرام میں مہاراشٹر کی سیاست اور ادبی دنیا کی کئی اہم شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سنیترہ پوار کے علاوہ کئی سینئر ارکان پارلیمنٹ، ملک بھر کے معروف دانشور، ادیب، ماہرین تعلیم اور مرکزی حکومت کی مختلف وزارتوں و محکموں کے اعلیٰ افسران خصوصی طور پر موجود رہیں گے۔

22 جولائی کو سپریم کورٹ نے چھ باغی ارکان کے انضمام پر فوری طور پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت نے لوک سبھا اسپیکر، لوک سبھا کے سکریٹری اور ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے جواب دہندگان سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کی تھی۔

وزیر اعظم کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ یہ ملاقات مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا اور پارلیمنٹ کے کام کاج میں تمام ارکان کی فعال شراکت داری کو یقینی بنانا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اجیت پوار کو ان کے یومِ پیدائش پر یاد کر رہا ہوں۔ سماج کی خدمت اور مہاراشٹر کی ترقی میں ان کا کردار قابلِ ستائش تھا۔ معاشرے کے تمام طبقات میں انہیں بے حد احترام حاصل تھا۔

ادھو ٹھاکرے کو مہاراشٹرمیں دھچکے کے بعد دھچکا لگا ہے۔ اب، لوک سبھا سکریٹریٹ نے اپنے باغی ممبران پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کے گروپ کے ساتھ انضمام کی منظوری دے دی ہے۔

 شیوسینا (یوبی ٹی) کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوارسے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ہمارے لئے'غداری' کا مطلب 'غداری' ہے۔ شرد پوار یقینی طور پر بڑے اور محترم لیڈر ہیں، لیکن جن لوگوں نے ان کی حکومت گرائی، ان کے دفتر میں جاکر میٹنگ کرنا کسی بڑے لیڈر کے بھروسے کو کم کرتا ہے۔

مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) نے مہاراشٹر قانون ساز کونسل عہدہ کے لئے ایم وی اے نے امیدوار اتار دیا ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی کی طرف سے جے ایم ابھینکرکو امیدوار بنایا گیا ہے۔ اس عہدے کے لئے الیکشن آئندہ روز بدھ یعنی یکم جولائی کو ہونا ہے۔

 مہاراشٹر حکومت میں وزیر ادے ساونت نے کہا-"ہم ان کا استقبال کریں گے کیونکہ ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی جو قیادت ہے، وہ آگے جاکر ان کو طاقت دے سکتا ہے۔ اب ان کو بھی سمجھ میں آیا ہوگا کہ وہیں جانا پڑے گا اور اگر آنے والے ہیں تو ان کا استقبال کریں گے۔"

حالیہ سیاسی پیش رفت کو شیو سینا (ادھو) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ حال ہی میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد جماعت میں ممکنہ تقسیم کی خبریں زور پکڑگئی تھیں۔

ادھو ٹھاکرے گروپ کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے شندے گروپ کا دامن تھام لیا ہے، جن میں سنجے ہری بھاؤ جادھو، بھاؤ صاحب راجارام واکچورے، اوم پرکاش بھوپال سنگھ  نمبالکر، سنجے دینا پاٹل، سنجے اتم راؤ دیشمکھ اور ناگیش باپوراؤ پاٹل اشٹیکر شامل ہیں۔