نئی دہلی : مہاراشٹر کے شہر پونے کے لوگوں کا طویل انتظار اب ختم ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج، 3 نومبر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پونے میٹرو کی نئی لائن-3 کا افتتاح کریں گے۔ مان-ہنجواڑی سے شیواجی نگر تک تعمیر کی گئی اس میٹرو لائن کے شروع ہونے سے خاص طور پر ہنجواڑی آئی ٹی پارک میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کو آمدورفت میں بڑی سہولت ملنے کی امید ہے۔افتتاحی تقریب میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سنیترہ اجیت پوار بھی موجود رہیں گے۔ یہ پروگرام صبح 10:30 بجے مہالونگے-بالے واڑی کے شری شیواجی چھترپتی اسپورٹس کمپلیکس کے بیڈمنٹن ہال میں منعقد ہوگا۔ تاہم عام مسافروں کو اس میٹرو میں سفر کرنے کے لیے 4 نومبر تک انتظار کرنا ہوگا۔ بدھ کی صبح 6 بجے سے اس روٹ پر باقاعدہ مسافر خدمات شروع ہو جائیں گی۔
23 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے نیا میٹرو روٹ
پونے میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم آر ڈی اے) کے کمشنر ڈاکٹر ابھیجیت چودھری کے مطابق، میٹرو لائن-3 کی مجموعی لمبائی 23.203 کلومیٹر ہے۔ یہ مکمل طور پر ایلیویٹڈ کوریڈور ہے، یعنی اس کا پورا راستہ زمین سے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔’پنیری میٹرو‘ اور ’پنک لائن‘ کے نام سے مشہور یہ میٹرو لائن مان سے شروع ہو کر ہنجواڑی کے راجیو گاندھی انفوٹیک پارک سے گزرتے ہوئے شیواجی نگر تک پہنچتی ہے۔ اس طرح پونے کے اہم آئی ٹی مرکز کو شہر کے انتظامی اور کاروباری علاقوں سے براہ راست جوڑا جائے گا۔اس منصوبے پر زمین کے حصول اور بجلی، پانی جیسی بنیادی سہولیات کو دوسری جگہ منتقل کرنے سمیت تقریباً 8,313 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اسے مرکزی حکومت کی قومی میٹرو ریل پالیسی 2017 کے تحت سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری (پی پی پی) ماڈل پر تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں ڈیزائن، تعمیر، مالی وسائل کی فراہمی، آپریشن اور بعد میں منتقلی کے لیے ڈی بی ایف او ٹی ماڈل اپنایا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں 17 اسٹیشنوں پر ملے گی سہولت
نئی میٹرو لائن پر مجموعی طور پر 23 اسٹیشن تعمیر کیے گئے ہیں، تاہم ابتدائی مرحلے میں صرف 17 اسٹیشن مسافروں کے لیے کھولے جائیں گے۔ ان میں سے 7 اسٹیشنوں پر فی الحال صرف ایک سیڑھی استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔ انتظامیہ نے مسافروں کو ابتدائی دنوں میں اسٹیشنوں پر آمدورفت کے دوران دستیاب سہولیات اور ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔مسافروں کو میٹرو سے اترنے کے بعد اپنی منزل تک پہنچنے میں دشواری نہ ہو، اس کے لیے ملٹی موڈل انٹیگریشن کا نظام بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت میٹرو کو بسوں، سڑکوں اور دیگر ذرائع نقل و حمل سے جوڑا جائے گا۔
ٹریفک جام سے راحت اور ماحولیات پر بھی توجہ
ہنجواڑی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ٹریفک جام ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ خاص طور پر دفتری اوقات میں سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ نئی میٹرو سروس شروع ہونے سے نجی گاڑیوں کے استعمال میں کمی اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔اس منصوبے میں پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کی سہولت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت الگ سائیکل ٹریک، چوڑے فٹ پاتھ، پیدل سڑک پار کرنے کے لیے مخصوص مقامات اور فٹ اوور برج تیار کیے جا رہے ہیں۔ماحولیات کے تحفظ کے لیے میٹرو منصوبے میں مجموعی طور پر 7.60 میگاواٹ صلاحیت کا شمسی توانائی نظام نصب کیا گیا ہے۔ اس میں 6.10 میگاواٹ کے سولر پینل میٹرو اسٹیشنوں پر جبکہ 1.50 میگاواٹ کا نظام کار ڈپو میں لگایا گیا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بجلی میٹرو کی مجموعی توانائی ضرورت کا تقریباً 30 فیصد پورا کرے گی۔
تقریباً 100 خواتین ٹرین پائلٹ چلائیں گی میٹرو
پونے میٹرو لائن-3 کی سب سے خاص بات اس میں خواتین کی بڑی شمولیت ہے۔ اس روٹ پر چلنے والی تمام ٹرینوں کو تقریباً 100 خواتین ٹرین پائلٹ چلائیں گی۔ اس کے علاوہ اسٹیشنوں کے انتظامی عملے میں بھی خواتین کی نمایاں تعداد ہوگی۔اسٹیشن کنٹرولر، ٹکٹنگ اسٹاف اور اسٹیشن اٹینڈنٹ سمیت اسٹیشنوں پر تعینات مجموعی عملے میں تقریباً 50 فیصد خواتین ہوں گی۔ پی ایم آر ڈی اے کمشنر ڈاکٹر ابھیجیت چودھری کے مطابق، اس پہل کا مقصد ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خواتین کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا اور صنفی مساوات کو فروغ دینا ہے۔
بھاررت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

