Bharat Express DD Free Dish

کلیم الدین احمد کی نگارشات ہمارے ذہنوں میں زندہ، انہیں فراموش کیا جانا قابل افسوس ہے: قومی اردو کونسل اورشعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مشترکہ سیمینار میں مقررین کا چھلکا درد

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ یک روزہ قومی سیمینار میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر ابوبکر رضوی وغیرہ نے اردو زبان وادب کے معروف نقاد ’کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان (این سی پی یوایل) اورشعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہمی اشتراک سے ‘کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید’ کے عنوان سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی آئی ٹی کانفرنس ہال میں یک روزہ سمینارکا انعقاد کیا گیا، جس میں کلیم الدین احمد کی شخصیت وافکارپرنہایت مفید ومعنی خیزخطبات ومقالات پیش کئے گئے۔ اس موقع پرمقررین نے ایک طرف قومی اردو کونسل اورادارے کے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال کی ستائش کی۔

اس سمینارکے افتتاحی اجلاس کی صدارت بزرگ ناقد ودانشورپروفیسرصدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کلیم الدین احمد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دورکی یک رخی اورایک ہی ڈگرپرچلنے والی اردوتنقید کوتجزیہ وتفکرکی ایک نئی راہ سے روشناس کیا۔ انھوں نے اردوشاعری اورتنقید پرجوکچھ لکھا، وہ ہمارے ذہنوں کو روشن کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کلیم الدین احمد کے افکارونظریات پربعد میں جس طرح غوروفکرہونا چاہئے تھا، وہ نہیں ہوا۔ میں کونسل اورشعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کواس سمینارکے انعقاد کے لئے خصوصی مبارکباد پیش کرتا ہوں، کہ آج کا یہ سمینارکلیم الدین احمد کے فکروفن کی ایسی جہتیں سامنے لائے گا، جواب تک اجاگرنہیں کی گئی ہیں۔

قاموسی شخصیت کے حامل تھے کلیم الدین احمد: ڈاکٹر شمس اقبال

اس سے قبل قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اورکہا کہ کلیم الدین احمد ایک قاموسی شخصیت کے حامل تھے، جنھیں اردوکے ساتھ دیگرکئی علوم وفنون اورزبانوں پردسترس حاصل تھی۔ انھوں نے روایتی تنقیدی نظریات پردلائل اورتحقیق‌ کی روشنی میں چوٹ کی اوران کے کچھ تیکھے جملے بہت مشہورہوئے، جن کا ان کے معاصرین نے نوٹس لیا اوران سے اختلاف بھی کیا گیا، مگراس کے باوجود سبھوں نے ان کی بلند وبالا علمی وادبی قد وقامت کوتسلیم کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت ہے کہ نئی نسل کوایسے عظیم ادیب وناقد کی ہمہ جہت خدمات سے روشناس کروایا جائے۔ آج کا سمیناراسی سلسلے کی اہم پیش رفت ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اس سمینارکے مقالات و خطبات سے کلیم الدین احمد کی تفہیم کے نئے زاویے روشن ہوں گے۔

کلیم الدین احمد کی شخصیت ونگارشات پریہ سیمینارمنفرد: پروفیسرکوثر مظہری

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدرپروفیسرکوثرمظہری نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے اس سمینارکے اغراض ومقاصد پرروشنی ڈالی اورکہا کہ کلیم الدین احمد کی شخصیت و نگارشات پردہلی میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد سمینارہے، جس میں ان کی پوری شخصیت ، نگارشات وافکارکا بھرپورجائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کلیم الدین احمد کی خدمات ایسی ہمہ گیرہیں کہ ان کے منظم مطالعہ اورجائزے کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ قومی اردوکونسل اورشعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقدہ یہ سمیناراسی سلسلے کی کاوش ہے، جسے درازہونا چاہئے اوران پرمزید ڈسکورس ہونا چاہئے۔

کلیم الدین احمد کے تنقیدی نظریات پرہوئی تفصیلی گفتگو

معروف ناقد ودانشورپروفیسرشافع قدوائی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کلیم الدین احمد کی مختلف تصانیف کے حوالے سے ان کے تنقیدی نظریات وافکارپرتفصیلی روشنی ڈالی۔ اردو شاعری، تنقید اورداستان پران کی نگارشات کا جائزہ لیتے ہوئے انھوں نے کلیم الدین احمد کے امتیازات کی نشان دہی کی۔ پروفیسرقدوائی نے نفسیاتی تنقید پرکلیم الدین احمد کی کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے اردوناقد ہیں، جنھوں نے تحلیلِ نفسی اورادب کے باہمی تعلق کواپنے تنقیدی مطالعے کا محوربنایا۔ اجلاس کے مہمانِ خصوصی پروفیسرابوبکررضوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کلیم الدین احمد کی شخصیت جیسی عبقری تھی، اس کے شایانِ شان ان کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ مجھے خوشی ہے کہ قومی اردوکونسل اورشعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کی مشترکہ کوششوں‌ سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے۔ انھوں نے کلیم الدین احمد کی علمی وادبی عظمت کا حوالہ دیتے ہوئے خصوصاً طلبہ وطالبات سے ان کی جیسی ایمان داری اورعلمیت پیدا کرنے کی تلقین کی۔ اس افتتاحی اجلاس کی نظامت پروفیسرسرورالہدیٰ نے کی۔ ڈاکٹرشاداب شمیم کے اظہارِتشکرکے ساتھ اس اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔

‘کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید’ کے موضوع پرمقالات پیش کئے گئے

افتتاحی اجلاس کے بعد سمینارکا پہلا تکنیکی سیشن منعقد ہوا، جس کی صدارت پروفیسرانورپاشا نے کی جبکہ مقالہ نگاروں میں پروفیسرشہزاد انجم (کلیم الدین احمد کی تنقیدی زبان)، پروفیسر احمد محفوظ (اردو شاعری پر ایک نظر: بازدید)، ڈاکٹرمعید رشیدی (کلیم الدین احمد کی شاعری پرایک نظر) اورڈاکٹرعبد السمیع (کلیم الدین احمد کی عملی تنقید) شامل تھے۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹرنوشاد منظر نے کی۔ دوسرے تکنیکی سیشن کی صدارت پروفیسرقمرالہدیٰ فریدی نے کی۔ اس سیشن میں پروفیسرابوبکررضوی (کلیم الدین احمد اوران کا رسالہ معاصر)، ڈاکٹر مشتاق صدف (اردوغزل اورکلیم الدین احمد)، ڈاکٹرمجاہد الاسلام (کلیم الدین احمد کی تنقید مغربی تناظرمیں)، ڈاکٹرمعراج رعنا (ہیئتی تنقید اورکلیم الدین احمد) نے مقالات پیش کیے۔ جبکہ نظامت ڈاکٹرثاقب عمران نے کی۔ تیسرے تکنیکی سیشن کی صدارت پروفیسرشہپررسول نے کی اوراس سیشن میں پروفیسرابوبکرعباد (اردوداستان اورکلیم الدین احمد)، پروفیسراحمد امتیاز( کلیم الدین احمد کی تنقید)، ڈاکٹرمحمد مقیم (کلیم الدین احمد کی کتاب اردوتنقید پرایک نظر: بازدید)، ڈاکٹرخالد مبشر( کلیم الدین احمد اورترقی پسند نظریہ) نے مقالات پیش کئے۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر جاوید حسن نے کی۔ قابلِ ذکرہے کہ اس سمینارمیں اردوکے اسکالرس، اساتذہ اورطلبہ وطالبات نے شرکت کی۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read