Bharat Express DD Free Dish

Urdu Adab

تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ سماجیات کی صدر پروفیسر عذرا عابدی کا خیرمقدم کیا اور موضوع کی اہمیت پرقدرے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پر پروفیسر عذرا عابدی نے توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے ترقی پسند اردو افسانے کی روایت اور اس میں خواتین افسانہ نگاروں کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا۔

صدارتی خطاب میں راجہ بھائی نے کہا کہ جس آزاد فضا میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہ ہمارے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کا عطیہ ہے۔ اب مادرِ وطن کی ترقی اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے خون کی ایک ایک بوند وطن کے لیے وقف ہے۔ ملک کی ترقی ہی ہماری ترقی ہے۔

راحت اندوری کا 70 برس کی عمر میں 11 اگست 2020 کو انتقال ہوگیا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی، جس سے ادبی اور فلمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

کرشن بہاری نورؔ کے شعری کلیات ’’من مُرشد‘‘ کی تیاری کا کام کافی عرصے سے جاری تھا۔ بالآخر یہ خوشگوار انتظار 14 جولائی2026 کو ختم ہوا، جب اردو گھر، نئی دہلی میں ایک پُر وقار جلسے میں اس کا اجرا عمل میں آیا۔

سمر کیمپ 2026 میں تقریباً 230 طلبا روزانہ بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کررہے ہیں۔ طلبا کی تعلیمی، ذہنی اورتخلیقی صلاحیتوں کوبہتراندازمیں پروان چڑھانے کے لیے انھیں دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: سینئر زمرہ (نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک) اورجونیئر زمرہ (چوتھی جماعت سے آٹھویں جماعت تک)۔ سمرکیمپ میں طلبا کے لئے تعلیمی، تربیتی، اخلاقی اور تخلیقی سرگرمیوں کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا ہے، جن کے ذریعہ بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان میں اعتماد، نظم وضبط اور عملی مہارت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، دہلی اردو اکادمی، انجمن ترقی اردو ہند کے علاوہ شعبہ اردو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے اداروں سے پروفیسر مظفر حنفی کے صاحبزادے انجینئر فیروز مظفر نے توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد کو جو مقام ومرتبہ ملنا چاہئے تھا، وہ نہیں ملا، اس کا ہمیں ملال ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ یک روزہ قومی سیمینار میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر ابوبکر رضوی وغیرہ نے اردو زبان وادب کے معروف نقاد ’کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین نے اپنے خطاب میں اس بات کو خوش آئند قراردیا کہ سمینارمیں نئی نسل کی بڑی تعداد میں شرکت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے اس کامیاب شمولیت پراردو اکادمی کومبارکباد دی اورکہا کہ اکیسویں صدی مصنوعی ذہانت کا عہد ہے، جس کی برق رفتاری نے ہماری فکری ساخت اور طرزِ فکر کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ ایسے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ادب کے رجحانات اور رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے، جس کے اثرات تخلیقی ادب میں بھی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت نامور محقق ونقاد پروفیسر عبدالحق نے کی، جبکہ کلیدی خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ریٹائرڈ پروفیسر قاضی جمال حسین نے پیش کیا۔ فیکلٹی آف آرٹس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق ڈین اور معروف ادیب و دانشور پروفیسر قاضی افضال حسین مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔

ریختہ فاؤنڈیشن نے دسویں ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 5، 6 اور7 دسمبر کو دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کے اشتراک سے بانسیرا پارک، نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ ایڈیشن اردو کی لازوال خوب صورتی، اس کے ورثے، شاعری، موسیقی اور فنون کو دنیا بھر کے فن کاروں اور ادب نواز دوستوں کے ساتھ ایک عظیم خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ اس سال جشنِ ریختہ میں 300 سے زائد فنکار شامل ہوں گے اور35 سے زیادہ سیشن منعقد کئے جائیں گے۔