مرکز کے ذریعہ پارلیمانی نشستوں کی مجوزہ حد بندی پر تمل ناڈو کی حکمران ڈی ایم کے کی میزبانی میں کئی ریاستوں کی پہلی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے کہا کہ ہم اس کے خلاف قانونی لڑائی بھی لڑیں گے۔ اسٹالن نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمانی حلقوں کی حد بندی آئندہ مردم شماری کی بنیاد پر کی جاتی ہے، تو کئی ریاستوں کی آوازوں کو اسی طرح نظر انداز کر دیا جائے گا، جیسا کہ منی پور میں کیا گیا۔ پھر ہر جگہ ویسی ہی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
اس میٹنگ میں کم از کم پانچ ریاستوں کے 14 لیڈروں نے شرکت کی، جن میں کیرالہ، تلنگانہ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ – پنارائی وجین، ریونت ریڈی اور بھگونت سنگھ مان شامل تھے۔ ان کے علاوہ سابق وزرائے اعلیٰ جگن موہن ریڈی (آندھرا پردیش) اور نوین پٹنائک (اوڈیشہ) نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی۔
کیوں ہے حد بندی پر اعتراض؟
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے کہا کہ لوک سبھا سیٹوں کی حد بندی ’’ڈیموکلس کی تلوار‘‘ کی طرح لٹک رہی ہے اور بی جے پی حکومت بغیر کسی مشاورت کے اس مسئلے پر آگے بڑھ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اچانک اقدام آئینی اصولوں یا جمہوری تقاضوں کے سبب نہیں بلکہ تنگ سیاسی مفادات کو مد نظر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اگر مردم شماری کے بعد حد بندی کی جاتی ہے تو اس سے شمالی ہند کی ریاستوں کی نشستوں میں اضافہ ہوگا جب کہ جنوبی ہند کی ریاستوں کی نشستیں کم ہوں گی۔ اس سے سب زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہوگا کیوں کہ شمال میں اس کی پکڑ مضبوط ہے اور جنوب میں کمزور۔
ایم کے اسٹالن نے قانونی لڑائی لڑنے کا کیا اعلان
چنئی میں منعقدہ اس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اسٹالن نے سیاسی اور قانونی ایکشن پلان تیار کرنے کے لیے ایک ماہر پینل کے قیام کی حمایت کی۔ انھوں نے پینل کو ‘جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے منصفانہ حد بندی’ کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز پیش کی اور اس سیاسی لڑائی کو آگے بڑھاتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کرنے پر زور دیا۔ اسٹالن نے زور دیا کہ آبادی کے موجودہ اعداد و شمار پر مبنی حد بندی کو قبول نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ’’یہاں کی ہر ریاست نے آبادی پر کنٹرول کے ذریعے اہم پیش رفت کی ہے اور یہ اقدام ایسا کرنے والی ریاستوں کو سزا دے گا۔ نمائندوں کی تعداد کو کم کرنے سے ہماری آواز دبا دی جائے گی۔ دو سالوں سے منی پور ہنگامہ آرائی کا شکار ہے، لیکن انصاف کے لیے ان کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس قومی توجہ حاصل کرنے کی سیاسی طاقت نہیں ہے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’پارلیمانی نشستوں یا نمائندگی میں کمی لامحالہ ہماری سیاسی طاقت میں کمی کا باعث بنے گی۔ یہ محض تعداد کے بارے میں نہیں ہے – یہ ہماری طاقت، ہمارے حقوق اور ہمارے عوام کے مستقبل کے مفادات سے متعلق ہے۔‘‘ اسٹالن نے مزید کہا ’’ہماری رضامندی کے بغیر قوانین بنائے جائیں گے اور ہمارے لوگوں پر اثر انداز ہونے والے فیصلے وہ لوگ کریں گے جو ہماری ضروریات کو نہیں سمجھتے۔۔۔ طلباء اہم مواقع کھو دیں گے، کسانوں کو بے سہارا چھوڑ دیا جائے گا اور ہماری ثقافت، شناخت اور ترقی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔‘‘
بی جے پی پر لگایا الزام
اسٹالن نے بی جے پی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اپنے ’’منفی مقاصد‘‘ کو آگے بڑھانے کے لیے حد بندی کے منصوبے کا استعمال کر رہی ہے۔ انھوں نے میٹنگ میں موجود تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اس مسئلہ پر متحد ہوجائیں۔ انھوں نے کہا ’’میں ہر ایک سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان قراردادوں کے لیے اپنی قیمتی تجاویز پیش کریں جن پر اس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں بحث اور منظوری دی جائے گی۔‘‘
بی جے پی کا ردعمل
دریں اثنا ریاست میں اپوزیشن بی جے پی نے سیاہ جھنڈا لے کر احتجاج کیا اور اسٹالن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بی جے پی لیڈر تملائی راجن نے اس میٹنگ کو متعلقہ لیڈروں کی ’’کرپشن چھپانے والی میٹنگ‘‘ قرار دیا۔ وہیں کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ’’کسی بھی قیمت پر ہم اپنے ملک کو شرمندہ اور اپنی سیٹوں کو کم نہیں ہونے دے سکتے۔‘‘ بی جے پی کے قومی ترجمان سی آر کیسون نے اس میٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ میٹنگ ’’ڈی ایم کے کی بدعنوان، ناکام، تباہ کن بدانتظامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے‘‘ منعقد کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

