جموں وکشمیر میں سیلاب کی تباہی کے درمیان جیو نیٹ ورک نے لائف لائن کا کام کیا۔
جموں/سری نگر/نئی دہلی: جموں وکشمیرمیں حالیہ طوفانی سیلاب نے نظام زندگی درہم برہم کردی۔ سڑکیں بہہ گئیں، بجلی کی تاریں منقطع ہو گئیں اورمواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔ ایئرٹیل، ووڈافون۔آئیڈیا اوربی ایس این ایل جیسی زیادہ ترٹیلی کام خدمات گھنٹوں بند رہیں، جس کی وجہ سے لوگ اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کرسکے۔ اس تباہی کے درمیان، ریلائنس جیو کا نیٹ ورک فعال رہا، جس نے تباہی سے متاثرہ جموں و کشمیر اور باہر پھنسے ہوئے ہزاروں خاندانوں کوجڑے رہنے میں مدد فراہم کی۔ اس سے لوگوں کو اپنے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہنے اور انخلاء کے منصوبوں اور حفاظتی اقدامات پرتبادلہ خیال کرنے میں مدد ملی۔
سری نگرکی ایک رہائشی عائشہ نے کہا کہ ریلائنس جیونیٹ ورک کی وجہ سے میں بارش کے دوران اپنے والدین اوربہن بھائیوں کی خیریت جان سکی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے بغیرہم کیسے چل سکتے تھے۔” ماہرین کے مطابق، جیوکا بنیادی نیٹ ورک اسٹریٹجک ٹرانسمیشن کوریڈورزپرمبنی ہے، جوقدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ جبکہ دوسرے آپریٹرزنے دریا کے کنارے اورسڑکوں کے قریب بچھائی گئی فائبرلائنوں پرزیادہ انحصارکیا۔
جیو نے اسے مختلف راستوں سے جوڑکر شہریوں کی مواصلاتی لائف لائن کوزیادہ محفوظ رکھا۔ اس کی وجہ سے سیلاب سے بجلی اور سڑکیں متاثرہونے کے باوجود جیوکا زیادہ ترنیٹ ورک چلتا رہا۔ آفت کی اس گھڑی میں دوسرے آپریٹرزکے ہزاروں صارفین بھی انٹرا سرکل رومنگ سسٹم کے تحت جیونیٹ ورک سے جڑے رہے اوراپنے اہل خانہ سے رابطہ برقراررکھنے میں کامیاب رہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ تھی۔ جیونے پہلے ہی اضافی انتظامات، مضبوط انفراسٹرکچر اورمستقل بیک بون کوریڈورپرکام کیا ہے۔ اس کی وجہ سے بحران کے وقت اس کا نیٹ ورک معمول کے مطابق چلتا رہا اورہزاروں خاندانوں کے لیے زندگی کا ذریعہ بن گیا۔ ریاست میں جیو ٹیم کے عہدیداروں کواس کامیابی کا سہرا دیا جارہا ہے۔ ان کی دوراندیشی، تکنیکی منصوبہ بندی اورفعال قیادت نے اس بات کویقینی بنایا کہ بحران کے دوران خدمات میں خلل نہ پڑے۔ تباہی کی اس گھڑی نے ایک بارپھرثابت کیا کہ دوراندیشی اورمضبوط تکنیکی انفراسٹراکچرنہ صرف سہولت بلکہ بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


