مرکزی وزارت داخلہ نے جموں وکشمیرہائی کورٹ کومطلع کیا ہے کہ مرکزکے زیرانتظام علاقے کے لیفٹیننٹ گورنرمنتخب حکومت کی “مدد اورمشورے” کے بغیربھی جموں وکشمیرقانون سازاسمبلی کے لئے پانچ اراکین کونامزد کرسکتے ہیں۔ وزارت نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنرکا دفترحکومت کی توسیع نہیں ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ نامزدگیاں “جموں وکشمیرکی منتخب حکومت کے دائرہ کارسے باہرہیں”۔
’یہ جمہوریت کا قتل ہے…‘
عمران نبی ڈارنے کہا کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ وزارت داخلہ کا عمل ہے، جوہائی کورٹ نے مرکزسے مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ نوٹس لے گا اورمنتخب اورنامزد اراکین کے درمیان فرق کرکے انصاف فراہم کرے گا۔
کانگریس رکن اسمبلی نے مانگا مکمل ریاست کا درجہ
وہیں کانگریس رکن اسمبلی نظام الدین بھٹ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ نامزدگی لیفٹیننٹ گورنرکے دائرہ اختیارمیں ہے، لیکن جب جموں وکشمیرمیں ایسا کوئی طبقہ نہیں ہے، جس کی نمائندگی اسمبلی میں نہیں ہے اور یہاں تک کہ ریاست کا درجہ بھی نہیں ہے، تولیفٹیننٹ گورنر کا دفتراوریہاں تک کہ وزارت داخلہ بھی جلد بازی کیوں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزکواپنا پہلا وعدہ پورا کرنا چاہئے، جو ریاست کا درجہ بحال کرنے سے متعلق ہے۔
وزارت داخلہ نے کیا کہا؟
درحقیقت، وزارت داخلہ کی طرف سے عدالت میں داخل کردہ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ نامزدگی “جموں وکشمیرکی منتخب حکومت کے دائرہ کارسے باہرہے۔” حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ ‘ایک بارجب پارلیمنٹ کا ایک ضمنی قانون پارلیمانی ایکٹ کے تحت لیفٹیننٹ گورنرکو یونین ٹیریٹری حکومت سے علیحدہ اتھارٹی کے طورپرتسلیم کرتا ہے، تویہ بنیادی طورپراس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب لیفٹیننٹ گورنر کوکوئی اختیاردیا جاتا ہے، تواسے ایک قانونی کام کے طورپراستعمال کیا جانا چاہئے نہ کہ یونین ٹیریٹری کے سربراہ کے طورپراس کے فرائض میں توسیع کے طورپر۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیفٹیننٹ گورنرکویہ قانونی ذمہ داری ایک قانونی اہلکارکی حیثیت سے، اپنی صوابدید پرادا کرنی چاہئے، نہ کہ حکومت کی توسیع کے طورپر، اس طرح بغیرکسی امداد اورمشورے کے”۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


