آکلینڈ: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز آکلینڈ میں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ کھیل اور کاروبار سے متعلق ایک خصوصی پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بھارت صرف ایک منڈی نہیں بلکہ عالمی ترقی کے لیے ایک مضبوط آغاز گاہ ہے۔ کاروباری اور کھیلوں کی دنیا کی ممتاز شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’آکلینڈ میں آپ سب کے درمیان آ کر مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ میں وزیر اعظم لکسن کا بھارت کے ساتھ ان کی مضبوط وابستگی پر خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ سب کی موجودگی نیوزی لینڈ کی جدت، کاروباری صلاحیت اور مستقبل پر مبنی سوچ کی عکاس ہے۔ میں بھارت کے 140 کروڑ عوام کی امنگوں اور خواہشات کا پیغام لے کر آیا ہوں۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات ایک نئے موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ آج دونوں ممالک اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک سفارتی سنگِ میل نہیں بلکہ مشترکہ مستقبل کا نیا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے صرف نو ماہ کی ریکارڈ مدت میں آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کیا، جس سے منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری، خدمات، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں ممالک نئے جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو دوگنا کریں گے۔ نیوزی لینڈ نے آئندہ پندرہ برسوں میں بھارت میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے، جو صرف سرمایہ کاری نہیں بلکہ بھارت کی ترقی کے سفر میں شراکت داری کا اظہار بھی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اس وقت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ بڑھتا ہوا متوسط طبقہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال اور جدید بنیادی ڈھانچہ بھارت کو ترقی کی ایک منفرد مثال بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ’اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی‘ کو اپنی حکمرانی کی بنیاد بنایا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج بھارت میں پالیسی، سیاست اور ترقی تینوں میں استحکام ہے، اسی لیے دنیا کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ بھارت صرف ایک منڈی نہیں بلکہ عالمی ترقی کے لیے ایک مضبوط آغاز گاہ ہے۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ کاروباری اداروں کو ان مواقع سے فائدہ پہنچانے کے لیے حکومت نے “پیداواری مراعاتی منصوبہ” شروع کیا ہے، جس کے تحت خوراک کی پروسیسنگ سے لے کر ٹیکسٹائل تک چودہ شعبوں میں 20 ارب امریکی ڈالر کی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو اس مہم کا حصہ بننے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہوائی اڈوں، علاقائی فضائی رابطوں، فضائی مال برداری اور سیاحت کے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور بھارت دنیا کی تیسری بڑی گھریلو فضائی منڈی بن چکا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر فضائی مال برداری کے راستے، نئی پروازیں اور سیاحتی پیکیج تیار کر سکتے ہیں، جبکہ کیوی پھل، سیب، شہد اور سمندری خوراک کی تیز رفتار ترسیل کے لیے جدید حل بھی تیار کیے جا سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نیوزی لینڈ باغبانی، ڈیری سائنس اور جنگلات کے شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، جبکہ بھارت کے پاس بڑی صارف منڈی، فوڈ پارکس اور زرعی ٹیکنالوجی کی صلاحیت موجود ہے۔ دونوں ممالک مل کر کھیت سے بازار تک ویلیو چین اور عالمی برآمدی پلیٹ فارم قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فن ٹیک کے میدان میں بھارت عالمی رہنما ہے اور دنیا کے پچاس فیصد حقیقی وقت کے ڈیجیٹل لین دین بھارت میں انجام پاتے ہیں۔ دونوں ممالک گرین بانڈز اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں بھی مل کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے خلائی شعبہ نجی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا ہے اور اس وقت ملک میں چار سو سے زائد خلائی اسٹارٹ اپس سرگرم ہیں۔ دونوں ممالک کی کمپنیاں چھوٹے مصنوعی سیاروں، ریموٹ سینسنگ اور سمندری نگرانی جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کر سکتی ہیں۔ اسی طرح بھارت کے اسمارٹ سٹی مشن کے تحت سو شہروں میں آٹھ ہزار سے زائد منصوبوں پر کام جاری ہے، جہاں شہری آمدورفت، پانی کے انتظام اور کچرے کے مؤثر بندوبست جیسے شعبوں میں بھی دونوں ممالک وسیع تعاون کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




