Bharat Express DD Free Dish

Auckland

آکلینڈ میں منعقدہ ’کیا اورا مودی‘ پروگرام بھارت-نیوزی لینڈ تعلقات اور بیرونِ ملک مقیم بھارتی برادری کے کردار کے جشن کے طور پر سامنے آیا۔ دس ہزار سے زائد بھارتی نژاد افراد کی موجودگی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی، باہمی اعتماد اور تعاون کو اجاگر کیا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج کا بھارت دنیا کو ترقی کا نیا ماڈل فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل شناختی پلیٹ فارم کو کامیابی سے چلا رہا ہے اور یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے ہر ماہ اربوں ڈیجیٹل لین دین انجام دیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔

وزیر اعظم نے مودی کہا کہ نیوزی لینڈ باغبانی، ڈیری سائنس اور جنگلات کے شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، جبکہ بھارت کے پاس بڑی صارف منڈی، فوڈ پارکس اور زرعی ٹیکنالوجی کی صلاحیت موجود ہے۔ دونوں ممالک مل کر کھیت سے بازار تک ویلیو چین اور عالمی برآمدی پلیٹ فارم قائم کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کی۔ اس کے بعد آکلینڈ کے گورنمنٹ ہاؤس میں ان کا باضابطہ استقبال کیا گیا، جہاں انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

وزیر اعظم مودی اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے کے تحت مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی شام آکلینڈ پہنچے، جہاں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ اس سے دونوں ممالک کی جانب سے اس دورے کو دی جانے والی اہمیت کا اظہار ہوا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے آکلینڈ میں بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے 30 سال پرانا مفلر دکھایا اور بھارت-نیوزی لینڈ تعلقات کو نئی سمت دینے کی بات کی۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم مودی آکلینڈ میں اپنے ہم منصب کرسٹوفر لکسن کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، عوامی روابط اور دیگر شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ آکلینڈ میں وزیراعظم نریندر مودی کے استقبال کے لیے مشہور اسکائی ٹاور کو خصوصی روشنیوں سے سجایا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور باہمی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور دیگر اہم شعبوں میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ نیوزی لینڈ کی معروف کاروباری اور کھیلوں کی شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے۔