Bharat Express DD Free Dish

Christopher Luxon

وزیر اعظم نے مودی کہا کہ نیوزی لینڈ باغبانی، ڈیری سائنس اور جنگلات کے شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، جبکہ بھارت کے پاس بڑی صارف منڈی، فوڈ پارکس اور زرعی ٹیکنالوجی کی صلاحیت موجود ہے۔ دونوں ممالک مل کر کھیت سے بازار تک ویلیو چین اور عالمی برآمدی پلیٹ فارم قائم کر سکتے ہیں۔

مذاکرات کے دوران وزیر اعظم مودی نے جمعہ کی شام ہوائی اڈے پر خود استقبال کرنے پر وزیر اعظم لکسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان گرمجوش تعلقات کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ رات آپ کا مجھے لینے کے لیے ہوائی اڈے آنا میرے لیے ایک خاص اشارہ تھا، جس کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں۔

سیاحت کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی انتظام پر دستخط کیے اور فضائی کمپنیوں سے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان براہ راست نان اسٹاپ پروازیں شروع کرنے کی اپیل کی۔ زراعت، باغبانی، جنگلات، مویشی پالنے اور ڈیری کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور دیگر اہم شعبوں میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ نیوزی لینڈ کی معروف کاروباری اور کھیلوں کی شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہند نژاد برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ اس بڑی بھارتی برادری سے خطاب کے منتظر ہیں، جس نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

کیوی پھل، جس پر فی الحال 33 فیصد ڈیوٹی ہے، کے لیے پہلے سال 6,250 ٹن کا ٹی آر کیو مقرر کیا گیا ہے، جو چھٹے سال تک بڑھ کر 15,000 ٹن ہو جائے گا۔ اس مقدار پر زیرو ڈیوٹی اور 1.80 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی ہوگی، جبکہ کوٹے سے زائد درآمد پر 50 فیصد ترجیحی مارجن اور 2.50 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی نافذ ہوگی۔

پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس کے دوران دونوں لیڈران نے مشترکہ طور پر بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے کے تاریخی اعلان کی تصدیق کی۔

لکسن نے لکھا ’’اس ہفتے ہندوستان کا دورہ کرنا اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے ذرائع پر بات کرتے ہوئے وقت گزارنا خوش گوار تھا۔

تصویریں شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے لکھا، “انڈیا-آسیان سربراہی اجلاس معنی خیز تھا۔ ہم نے ہندوستان اور آسیان کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔