Bharat Express DD Free Dish

FTA with New Zealand: نیوزی لینڈ کے ساتھ ملک کے ایف ٹی اے کے بلیو پرنٹ میں ہے ہندوستانی کسانوں کی بڑی جیت

کیوی پھل، جس پر فی الحال 33 فیصد ڈیوٹی ہے، کے لیے پہلے سال 6,250 ٹن کا ٹی آر کیو مقرر کیا گیا ہے، جو چھٹے سال تک بڑھ کر 15,000 ٹن ہو جائے گا۔ اس مقدار پر زیرو ڈیوٹی اور 1.80 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی ہوگی، جبکہ کوٹے سے زائد درآمد پر 50 فیصد ترجیحی مارجن اور 2.50 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی نافذ ہوگی۔

بھارت نے نیوزی لینڈ کے ساتھ طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ/ایف ٹی اے) کے تحت کئی حساس شعبوں میں درآمدی ڈیوٹی میں رعایت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد بھارتی کسانوں اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ان حساس شعبوں میں ڈیری، سبزیاں، چینی، تانبا اور ایلومینیم شامل ہیں۔ پیر کے روز دونوں ممالک نے اعلان کیا تھا کہ ایف ٹی اے پر مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ یہ معاہدہ آئندہ تین ماہ میں دستخط کے بعد اگلے سال نافذ ہو جائے گا۔

معاہدے کے تحت ایک تفصیلی ایکسکلوژن لسٹ (اخراجی فہرست) تیار کی گئی ہے، جس کے ذریعے اہم گھریلو شعبوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس فہرست میں ڈیری مصنوعات جیسے دودھ، کریم، وے، دہی اور پنیر؛ بھیڑ کے گوشت کے علاوہ دیگر حیوانی مصنوعات؛ سبزیاں مثلاً پیاز، چنا، مٹر، مکئی اور بادام؛ چینی اور مصنوعی شہد؛ نیز حیوانی، نباتاتی یا مائیکروبیل چکنائیاں اور تیل شامل ہیں۔ غیر زرعی شعبوں میں اسلحہ و گولہ بارود، جواہرات و زیورات، تانبا اور اس کی مصنوعات (کیتھوڈز، کارٹریجز، راڈز، بارز، کوائلز) اور ایلومینیم و اس سے بنی اشیا (انگوٹس، بیلٹس، وائر بارز) کو بھی معاہدے سے خارج رکھا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی بھارت نے بعض زرعی اشیا کے لیے محدود مارکیٹ رسائی دینے پر اتفاق کیا ہے، جو ٹیرف ریٹ کوٹاز (TRQs) اور کم از کم درآمدی قیمت (MIP) کے تحت ہوگی۔ ان اشیا میں مانوکا شہد، سیب، کیوی پھل اور البومنز شامل ہیں، جن میں ملک البومن بھی شامل ہے جو ادویات اور وے پروٹین کی تیاری میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

فی الحال بھارت مانوکا شہد پر 66 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ سے بھارت میں 14.2 ٹن (3 لاکھ امریکی ڈالر) مانوکا شہد درآمد ہوتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ درآمد 356.8 ٹن (19 لاکھ امریکی ڈالر) ہے۔ ایف ٹی اے کے تحت سالانہ 200 ٹن تک مانوکا شہد کو 20 امریکی ڈالر فی کلو کی کم از کم قیمت پر ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت ہوگی، جبکہ پانچ برس میں مرحلہ وار 75 فیصد ٹیرف میں کمی کی جائے گی۔ مقررہ کوٹے سے زائد مقدار پر ایم آئی پی بڑھا کر 30 امریکی ڈالر فی کلو کر دی جائے گی۔

سیبوں کے معاملے میں بھارت اس وقت 50 فیصد ڈیوٹی وصول کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ سے سیبوں کی درآمد 31,393 ٹن (3 کروڑ 24 لاکھ امریکی ڈالر) ہے، جبکہ عالمی درآمد 5,19,652 ٹن (42 کروڑ 46 لاکھ امریکی ڈالر) تک پہنچتی ہے۔ ایف ٹی اے کے تحت پہلے سال 32,500 ٹن سیبوں پر رعایت دی جائے گی، جو چھٹے سال تک بڑھ کر 45,000 ٹن ہو جائے گی۔ اس پر 25 فیصد ڈیوٹی اور 1.25 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی لاگو ہوگی، جبکہ کوٹے سے زائد مقدار پر 50 فیصد ڈیوٹی عائد رہے گی۔

کیوی پھل، جس پر فی الحال 33 فیصد ڈیوٹی ہے، کے لیے پہلے سال 6,250 ٹن کا ٹی آر کیو مقرر کیا گیا ہے، جو چھٹے سال تک بڑھ کر 15,000 ٹن ہو جائے گا۔ اس مقدار پر زیرو ڈیوٹی اور 1.80 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی ہوگی، جبکہ کوٹے سے زائد درآمد پر 50 فیصد ترجیحی مارجن اور 2.50 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی نافذ ہوگی۔

البومنز، بشمول ملک البومن، پر بھارت اس وقت 22 فیصد ڈیوٹی عائد کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ سے اس کی بھارت میں برآمد 3,430 ٹن (2 کروڑ 89 لاکھ امریکی ڈالر) ہے، جبکہ عالمی درآمد 18,801 ٹن (17 کروڑ 53 لاکھ امریکی ڈالر) ہے۔ ایف ٹی اے کے تحت پہلے سال 1,000 ٹن کا ٹی آر کیو دیا جائے گا، جو پانچویں سال تک بڑھ کر 3,000 ٹن ہو جائے گا، اس کے بعد معمول کی ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

حکام کے مطابق یہ متوازن حکمتِ عملی ایک طرف جہاں تجارت اور سپلائی چینز کو فروغ دے گی، وہیں دوسری جانب بھارتی کسانوں اور حساس گھریلو صنعتوں کے مفادات کا مضبوطی سے تحفظ بھی یقینی بنائے گی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read