PM Modi’s New Zealand Visit: ’’بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے کاروبار کو ملے گی نئی رفتار…‘‘ پی ایم مودی کے دورے سے قبل نیوزی لینڈ کے پی ایم کا بیان
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہند نژاد برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ اس بڑی بھارتی برادری سے خطاب کے منتظر ہیں، جس نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
PM Modi First Official Visit: ایف ٹی اے کے بعد وزیر اعظم مودی کا نیوزی لینڈ کا پہلا دورہ اگلے ہفتے، آکلینڈ میں وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کریں گے استقبال
وزیر اعظم نریندر مودی 10 جولائی کو نیوزی لینڈ کے اپنے پہلے تاریخی دورے پر آکلینڈ پہنچیں گے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے اس دورے کو ملک کی معاشی خوشحالی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ اس موقع پر حال ہی میں ہونے والے ریکارڈ ساز آزاد تجارتی معاہدے (FTA) اور 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف امور پر تبادلۂ خیال ہوگا۔
PM Modi Meets European Leaders at G7 Summit: جی-7 سربراہی اجلاس میں وزیراعظم مودی کی یورپی لیڈران سے ملاقات، بھارت-یورپی یونین تعلقات اور آزاد تجارتی معاہدے پر اہم گفتگو
وزیراعظم مودی نے انتونیو کوسٹا اور ارسولا فان ڈیر لیئن کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی شاندار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون موجودہ عالمی حالات میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
PM Modi Five Countries Visit: چھ دن، پانچ ممالک اور 140 گھنٹے کا میراتھن دورہ: جانئے کیسے یو اے ای، نیدرلینڈ، ناروے اور اٹلی سے وزیر اعظم مودی نے بدلی بھارت کی قسمت؟
وزیر اعظم مودی کا پانچ ممالک پر مشتمل تاریخی غیر ملکی دورہ مکمل ہوگیا ہے، جسے بھارت کی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی پالیسی کے لحاظ سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 15 مئی کو نئی دہلی سے روانہ ہونے والے وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔
India-New Zealand FTA Hopes: بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے سے جیمز اور جیولری ایکسپورٹ کے 50 ملین ڈالر تک پہنچنے کی امید: اعلیٰ صنعتی ادارہ
بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے جیمز اور جیولری کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہونے کی امید ہے۔ پیر کے روز ایک اعلیٰ صنعتی ادارے نے کہا کہ صنعت کے اندازوں کے مطابق اگلے تین برسوں میں یہ برآمدات بڑھ کر 50 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
PM Modi On Reform Express India: میں کبھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتا، مثبت بے چینی ہی آگے بڑھنے کی طاقت ہے: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے کبھی بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتے، کیونکہ عوامی زندگی میں رہتے ہوئے انسان کے اندر ایک مثبت بے چینی کا ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہی بے چینی بہتر کارکردگی، تیز رفتار اصلاحات اور مسلسل آگے بڑھنے کی تحریک فراہم کرتی ہے۔
India-EU Free Trade Agreement: ’’جب بھارت کامیاب ہوتا ہے تو دنیا زیادہ مستحکم، خوشحال اور محفوظ ہوتی ہے…‘‘، یورپی کمیشن کی صدر نے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تعریف کی
ارسولا وان ڈیر لیئن نے دفاعی صنعت میں بھارت اور یورپ کے طویل مدتی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم صرف اپنی معیشتوں کو مضبوط نہیں کر رہے، بلکہ ایک غیر محفوظ دنیا میں اپنے عوام کے لیے تحفظ بھی فراہم کر رہے ہیں۔ آج دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں اور جمہوریتیں اپنی پہلی سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کا آغاز کر رہی ہیں۔
PM Modi on India-EU FTA: بھارت-ای یو ایف ٹی اے مشترکہ خوشحالی کا نیا بلیو پرنٹ: وزیر اعظم نریندر مودی
پی ایم مودی نے کہا کہ یہ ایف ٹی اے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان سرمایہ کاری کو فروغ دے گا، نئی اختراعی شراکت داریوں کی حوصلہ افزائی کرے گا اور عالمی سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم کے مطابق یہ معاہدہ صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ دونوں خطوں کے لیے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔
India-New Zealand FTA: نیوزی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے، بھارت کا پہلا خواتین کی قیادت والا آزاد تجارتی معاہدہ: پی ایم مودی
ایف ٹی اے کے تحت بھارتی برآمدات پر 100 فیصد ڈیوٹی ختم ہو جائے گی، جبکہ طویل مدتی اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے آئندہ 15 برسوں میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی وابستگی بھی شامل ہے۔
FTA with New Zealand: نیوزی لینڈ کے ساتھ ملک کے ایف ٹی اے کے بلیو پرنٹ میں ہے ہندوستانی کسانوں کی بڑی جیت
کیوی پھل، جس پر فی الحال 33 فیصد ڈیوٹی ہے، کے لیے پہلے سال 6,250 ٹن کا ٹی آر کیو مقرر کیا گیا ہے، جو چھٹے سال تک بڑھ کر 15,000 ٹن ہو جائے گا۔ اس مقدار پر زیرو ڈیوٹی اور 1.80 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی ہوگی، جبکہ کوٹے سے زائد درآمد پر 50 فیصد ترجیحی مارجن اور 2.50 امریکی ڈالر فی کلو ایم آئی پی نافذ ہوگی۔





