نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے بہار حکومت کے وزیر نتن نبین کو پارٹی کا قائم مقام قومی صدر مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھا کہ آخر بی جے پی کے اس ’نبین تجربے‘ پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی منظوری کیسے حاصل ہوئی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ محض ایک تقرری نہیں بلکہ آنے والے وقت کے لیے قیادت کے خدوخال طے کرنے والا قدم ہے، جس کے پیچھے طویل غور و فکر اور ٹھوس حکمت عملی کارفرما رہی ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران بی جے پی نے دو بڑی تنظیمی تقرریاں کیں۔ ایک جانب مرکزی وزیر پنکج چودھری کو اتر پردیش بی جے پی کی ذمہ داری سونپی گئی، تو دوسری طرف 45 سالہ نتن نبین کو قائم مقام قومی صدر بنایا گیا۔ ان فیصلوں نے یہ واضح کر دیا کہ پارٹی اب تجربے، نظریاتی وابستگی اور نوجوان توانائی کے امتزاج پر مبنی قیادت کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ نتن نبین کا اچانک قومی سطح پر ابھرنا اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق قومی صدر کے عہدے کو لے کر گزشتہ ڈیڑھ سال سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے درمیان مسلسل مشاورت جاری تھی۔ دھرمیندر پردھان، شیو راج سنگھ چوہان اور منوہر لال کھٹر جیسے بڑے نام زیرِ غور تھے، مگر نتن نبین کا نام ابتدا میں کہیں نمایاں نہیں تھا۔ ایسے میں ان کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ تنظیم نے ایک ایسے لیڈر پر اعتماد کیا ہے جو خاموشی سے کام کرنے والا، نظم و ضبط کا پابند اور تنازعات سے دور رہنے والا ہو۔ پارٹی میں یہ بھی چہ مگوئیاں ہیں کہ مستقبل قریب میں انہیں مکمل قومی صدر کی ذمہ داری بھی سونپی جا سکتی ہے۔
سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آر ایس ایس آخر نتن نبین کے نام پر کیسے متفق ہوا۔ اس کا جواب ان کی نظریاتی پس منظر میں پوشیدہ ہے۔ نتن نبین کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو دہائیوں سے سنگھ پریوار کی فکر سے جڑا رہا ہے۔ ان کے والد بہار میں بی جے پی کے بانی اراکین میں شامل تھے اور خاندان کی وابستگی دو نسلوں سے آر ایس ایس کی نظریاتی لائن کے ساتھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے ان کے نام کی تائید کی تو سنگھ قیادت نے بھی اس پر اعتماد ظاہر کیا۔ آر ایس ایس کی جانب سے یہ مؤقف واضح تھا کہ بی جے پی کے صدر جیسے اہم عہدے پر ایسا شخص ہونا چاہیے جو تنظیمی نظم و ضبط کو گہرائی سے سمجھتا ہو اور نظریے کے تئیں مکمل وفادار ہو۔ اس کے ساتھ ہی قیادت میں نسلی تبدیلی کا پیغام دینا بھی ضروری تھا۔ نتن نبین ان دونوں معیاروں پر پورا اترتے ہیں۔ وہ نسبتاً نوجوان ہیں، مگر سیاسی اور تنظیمی تجربہ بھی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں قابلِ اعتماد چہرہ مانا گیا۔
نتن نبین کو قومی قیادت میں شامل کر کے بی جے پی نے ہندی پٹی کو بھی ایک واضح پیغام دیا ہے۔ بہار، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسے ریاستیں پارٹی کے لیے سیاسی طاقت کے مراکز بن چکی ہیں۔ ایسے میں بہار سے کسی لیڈر کو صدراتی کردار دینا انتخابی اور تنظیمی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کی صاف شبیہ، کم گوئی اور پسِ پردہ مؤثر کام کرنے کی عادت نے بھی ان کے حق میں فضا بنائی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نتن نبین کا عروج محض ایک تقرری نہیں بلکہ بی جے پی کے اندر جاری ’نئے تجربے‘ کی علامت ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی اب شور و ہنگامے سے زیادہ تنظیمی بھروسے، نظریاتی وابستگی اور زمینی کام کو ترجیح دے رہی ہے۔ اسی توازن پر بی جے پی اور آر ایس ایس، دونوں کی رضا مندی بنی، جو آنے والے برسوں میں پارٹی کی سمت متعین کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


