سپریم کورٹ نے پیر کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کی جانب سے وکلا کو قانونی مشورے یا مؤکلوں کی نمائندگی کرنے پر پر سمن بھیجے جانے کے عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ای ڈی تمام حدیں پار کر رہا ہے۔‘‘ چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوَئی کی سربراہی میں جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس این وی انجریا پر مشتمل بنچ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کی سماعت کے دوران کہا ’’وکلا اور مؤکل کے درمیان رابطہ ایک محفوظ اور خفیہ تعلق ہے، اس پر نوٹس کیسے جاری کیے جا سکتے ہیں؟‘‘
عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر رہنما اصول (guidelines) جاری کرے گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ یہ سماعت اس وقت شروع ہوئی جب ای ڈی نے سینئر وکلا اروند دتار اور پرتاپ وینوگوپال کو طلب کیا، جس پر قانونی برادری میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ بار ایسوسی ایشنز کے احتجاج کے بعد ای ڈی نے یہ نوٹس واپس لے لیے اور ایک سرکلر جاری کیا کہ آئندہ کسی بھی وکیل کو طلب کرنے کے لیے ڈائریکٹر کی پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔
یہ وکیلوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی کوشش ہے: وپن نائر
پھر سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن (SCAORA) کے صدر وپن نائر نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر اسے وکیلوں کی آزادی اور مؤکل کے ساتھ اس کے خفیہ تعلقات پر ’’سنگین حملہ‘‘ قرار دیا۔ سینئر وکیل وینوگوپال نے اس اقدام کو ’’غیر آئینی، غیرقانونی اور غیر ضروری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی نہ صرف قانون کی روح کے خلاف ہے بلکہ وکیلوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش ہے۔
SCAORA نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس عمل کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے اور وکلا و مؤکل کے درمیان اعتماد کو تحفظ دینے کے لیے واضح رہنما اصول جاری کرے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اگر تحقیقاتی ادارے وکلا کے کام میں مداخلت کریں گے، تو یہ قانون کی حکمرانی پر ضرب کے مترادف ہوگا۔ وکالت کی آزادی اور وقار کا تحفظ آئینی تقاضہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



