راہل گاندھی اور لوک سبھا اسپیکر برلا کے درمیان مائیک بند کرنے پر ایوان میں بحث
Parliament: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ایوان کے باہر لگاتار الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں ایوان میں بولنے نہیں دیا جاتا اور جب وہ بولنا چاہتے ہیں تو ان کا مائیک بھی بند کر دیا جاتا ہے۔
منگل کو لوک سبھا میں راہل گاندھی اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے درمیان بحث بھی ہوئی اور اس بار راہل گاندھی نے لوک سبھا کے اندر اپنے الزامات کو دہرایا۔
درحقیقت منگل کو صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر تقریر کرنے کے بعد جیسے ہی راہل گاندھی اپنی نشست پر بیٹھے اور ڈی ایم کے ایم پی کنیموئی بولنے کے لیے کھڑی ہوئی، اسی دوران اراکین اسمبلی کو نصیحت کرتے ہوئے اوم برلا نے کہا کہ کوئی اپنے سفر پر بات کر رہے ہیں تو کوئی کسی دیگر معاملہ پر جبکہ اراکین پارلیمنٹ کو صدر کے خطاب پر بات کرنی چاہیے۔ راہل گاندھی نے فوراً کھڑے ہو کر اس کا جواب دیا۔
भारत सरकार ने CBI-ED पर दबाव डालकर एजेंसी का प्रयोग करते हुए GVK से लेकर एयरपोर्ट को अडानी सरकार को दिलवाया गया। नियम बदलकर अडानी को 6 एयरपोर्ट दिए गए। मैं इसके सबूत भी दे दूंगा। ड्रोन सेक्टर में भी अडानी का कोई अनुभव नहीं था: लोकसभा में सांसद राहुल गांधी pic.twitter.com/Xs8NWQ1zUq
— ANI_HindiNews (@AHindinews) February 7, 2023
اس کے بعد اوم برلا نے کہا کہ بولنے کا موقع ملنے کے باوجود ایوان کے باہر جا کر الزام نہیں لگانا چاہئے کہ ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا اور مائیک بند کردیا جاتا ہے۔
اسپیکر کے مشورے کا فوراً جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے ایوان کے اندر اپنے الزام کو دہراتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ مائیک بند کر دیتے ہیں۔
اس پہلے بھی الزام لگا چکے ہیں راہل
اس پہلے بھی راہل گاندھی نے کئی بار الزام لگایا ہے کہ ایوان میں انہیں بولنے نہیں دیا جاتا ہے۔ کبھی مائیک بند کر دیا جاتا ہے تو کبھی بولنے سے روک دیا جاتا ہے۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
