Bharat Express DD Free Dish

Congress On One Nation One Election Committee: ون نیشن ون الیکشن سے متعلق کمیٹی میں شامل ہونے سے ادھیر رنجن چودھری کا انکار، امت شاہ کو لکھا خط

One Nation One Election Committee: ‘ون نیشن، ون الیکشن’ کمیٹی میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے کا نام شامل نہ کرنے پر اپوزیشن اتحاد انڈیا کے جماعتوں نے مرکز کی تنقید کی ہے۔

ون نیشن ون الیکشن کمیٹی میں شامل ہونے سے ادھیر رنجن چودھری نے انکارکردیا ہے۔

Congress On One Nation One Election Committee: کانگریس سمیت دیگراپوزیشن جماعتوں نے’ون نیشن، ون الیکشن’ کمیٹی میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرملیکا ارجن کھڑگے کا نام شامل نہ کرنے پراعتراض ظاہرکیا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیررنجن چودھری نے اس کمیٹی کا حصہ بننے سے انکارکرتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کوخط لکھا۔

مرکزی حکومت نے ہفتہ (2 ستمبر) کو’ون نیشن، ون الیکشن’ کی جانچ کے لئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل کی ہے، جس کے صدرسابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند ہوں گے۔ اس کمیٹی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیررنجن چودھری، سابق راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ غلام نبی آزاد اوردیگرکواراکین کے طورپرنامزد کیا گیا۔

ملیکا ارجن کھڑگے کا نام نہ ہونے سے کانگریس نارض

اس کمیٹی میں کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے کا نام نہ شامل کرنے پر کانگریس لیڈرکے سی وینو گوپال نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ ایک ملک ایک الیکشن پر اعلیٰ سطحی کمیٹی پارلیمانی جمہوریت کو برباد کرنے کی ایک کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

کے سی وینو گوپال نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ کرکے لکھا، “پارلیمنٹ کی توہین کرتے ہوئے، بی جے پی نے راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے کی جگہ پر ایک سابق اپوزیشن لیڈر (غلام نبی آزاد) کو کمیٹی کو نامزد کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے، وہ گھوٹالے، بے روزگاری، مہنگائی اوردیگر موضوعات سے توجہ بھٹکانے کے لئے یہ نوٹنکی کرتے ہیں۔ پھر معاملے کو بدتربنانے کے لئے وہ مخالفین کو باہر کرکے اس کمیٹی کے توازن کو جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

  بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read