Bharat Express DD Free Dish

Three Language Policy: کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے پی ایم مودی کو لکھا خط، سی بی ایس ای کی ’سہ لسانی‘ پالیسی پر فوری روک لگانے کا کیا مطالبہ

تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین دگ وجے سنگھ نے اپنے خط میں کہا کہ تعلیمی سیشن شروع ہونے کے بعد کسی نئی پالیسی کو اچانک نافذ کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ، ہزاروں اسکولوں اور والدین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن دگ وجے سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک تفصیلی خط لکھ کر مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کی جانب سے نویں جماعت میں ’سہ لسانی‘ پالیسی کو موجودہ تعلیمی سیشن کے دوران لازمی طور پر نافذ کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر روک لگائی جائے اور تمام ضروری تیاریوں کی تکمیل کے بعد ہی اس پالیسی کو نافذ کیا جائے تاکہ طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین دگ وجے سنگھ نے اپنے خط میں کہا کہ تعلیمی سیشن شروع ہونے کے بعد کسی نئی پالیسی کو اچانک نافذ کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ، ہزاروں اسکولوں اور والدین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑی تعلیمی تبدیلی سے قبل اس کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے، تربیت یافتہ اساتذہ، نصابی کتب اور دیگر انتظامی تیاریوں کا مکمل ہونا ضروری ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں ایسی تیاریوں کے مکمل ہونے کے شواہد نظر نہیں آتے۔

سابق وزیرِ اعلیٰ نے اپنے خط میں سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں کے باعث مسائل پیدا ہوئے تھے۔ ان کے مطابق او ایس ایم سسٹم کے نفاذ کے دوران جوابی کاپیوں کی جانچ کے حوالے سے متعدد شکایات سامنے آئی تھیں اور طلبہ و والدین کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تین زبانوں کی پالیسی بھی اسی انداز میں نافذ کی گئی تو اس کے نتائج بھی اسی طرح کے منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دگ وجے سنگھ نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ انہیں متعدد فکرمند والدین کے ایک گروپ کی جانب سے ایک یادداشت موصول ہوئی ہے، جس میں اس فیصلے پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے اس یادداشت کی نقل بھی وزیرِ اعظم کو ارسال کرتے ہوئے معاملے میں براہِ راست مداخلت کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین کو خدشہ ہے کہ تعلیمی سال کے درمیان نصاب اور زبان کے نظام میں تبدیلی سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہوگی اور ان کی تعلیمی منصوبہ بندی میں خلل پیدا ہوگا۔

راجیہ سبھا رکن نے خط میں یہ بھی یاد دلایا کہ دسمبر 2025 میں سی بی ایس ای کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جب تک قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (این سی ای آر ٹی) نئی درجہ بند یا گریڈیڈ زبانوں کی نصابی کتابیں جاری نہیں کر دیتی، تب تک موجودہ زبانوں کا نظام برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت اسکولوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پرانے نظام کے مطابق ہی تدریسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ تاہم دگ وجے سنگھ کے مطابق سی بی ایس ای نے اپنی ہی گورننگ باڈی کے فیصلے کے برعکس 15 مئی 2026 کو ایک سرکولر جاری کیا، جس میں یکم جولائی 2026 سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے تیسری زبان کی تعلیم لازمی قرار دے دی گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ این سی ای آر ٹی اب تک نئی گریڈیڈ نصابی کتابیں جاری نہیں کر سکی ہے، جس کے باعث سی بی ایس ای نے عارضی طور پر چھٹی جماعت کی کتابوں کے استعمال کی سفارش کی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بورڈ کی اپنی گورننگ باڈی نے واضح فیصلہ کیا تھا تو پھر اسے تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کے مطابق اس فیصلے سے ہزاروں اسکولوں کی تعلیمی منصوبہ بندی متاثر ہوگی اور طلبہ کی پڑھائی میں غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دگ وجے سنگھ قومی سطح کے امتحانات کے معاملات پر حکومت کو خطوط لکھ چکے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے نیٹ-یو جی امتحان کے پرچہ لیک معاملے پر وزیرِ اعظم کو خط ارسال کرتے ہوئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے زیرِ اہتمام گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے واقعات پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل اور امتحانی نظام پر اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read