بہار میں خواتین کے خلاف مبینہ طور پر بڑھتے جرائم کے معاملے پر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ اسی دوران مرکزی وزیر اور قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اہم اتحادی چراغ پاسوان نے ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر کھل کر تشویش ظاہر کی ہے۔ ریاست کی این ڈی اے حکومت میں اتحادی ہونے کے باوجود چراغ پاسوان نے واضح کیا کہ وہ عوامی مفاد اور بیٹیوں کی سلامتی کے معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے ہر شہری کی حفاظت یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور جہاں بھی لاپروائی سامنے آئے، وہاں سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
لاپرواہ افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ
ایک انٹرویو کے دوران جموئی، سمستی پور اور بانکا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے چراغ پاسوان جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ جب بیٹیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں تو ایک عوامی نمائندے کی حیثیت سے انہیں انتہائی دکھ اور شرمندگی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کا حصہ ہونے کے ناتے وہ اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ ان کے مطابق حکومت کو ایسے واقعات کو کسی بھی صورت معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ مجرموں کے دل میں قانون کا خوف پیدا کرنے کے لیے ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
کیا این ڈی اے چھوڑیں گے چراغ پاسوان؟
اتحادی حکومت سے الگ ہونے یا کوئی سخت فیصلہ لینے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے چراغ پاسوان نے واضح کیا کہ وہ حکومت کے اندر رہ کر ہی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے لیڈروں کا بھی کہنا ہے کہ چراغ پاسوان ہمیشہ سے عوامی مفاد اور خواتین کی سلامتی کے معاملات پر کھل کر اپنی بات رکھتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مقصد حکومت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ انتظامی نظام کو مزید مضبوط اور حساس بنانا ہے۔
بیانات سے آگے ٹھوس اقدامات کی توقع
مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری چراغ پاسوان کے اس موقف کے بعد انتظامیہ اور پولیس کی سطح پر مزید سرگرمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ بہار کے عوام کی بھی یہی توقع ہے کہ محض بیانات کے بجائے زمینی سطح پر پولیس اور انتظامیہ کو زیادہ چوکس اور جواب دہ بنایا جائے، تاکہ ریاست کا ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





