جے پورکی ہوا محل سیٹ سے بی جے پی رکن اسمبلی بالمکند آچاریہ کے ذریعہ جامع مسجد میں گھس کرپوسٹرلگانے کا تنازعہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز (26 اپریل) کو جوہری بازار میں رکن اسمبلی بالمکند آچاریہ کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج کردیا۔ اس کے بعد جوہری بازار کا علاقہ بند کردیا گیا۔ پورا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا ہے۔
دراصل، عصرکی نماز کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں مسلم سماج کے لوگوں نے احتجاج کیا اور سڑکوں پراترآئے۔ انہوں نے بی جے پی رکن اسمبلی بالمکند آچاریہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، جن پر پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کردیا۔ اطلاعات کے مطابق، ہوا محل اسمبلی حلقہ سے بی جے پی رکن اسمبلی بالمکند آچاریہ پر ماحول خراب کرنے کے الزام پر ان کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے مظاہرین نے نعرے بازی کی۔ اس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ سوشل میڈیا پراس لاٹھی چارج کے کئی ویڈیو سامنے آئے ہیں۔
بالمکند آچاریہ نے صفائی میں کیا کہا؟
وہیں، بی جے پی رکن اسمبلی بالمکند آچاریہ نے جامع مسجد میں گھس کرمتنازعہ پوسٹرلگائے جانے اور اشتعال انگیز نعرے بازی کرنے سے متعلق اپنے اوپرلگے الزامات کو پوری طرح غلط اوربے بنیاد بتایا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اوران کا کوئی بھی حامی مسجد کے اندرداخل نہیں ہوا اورنہ ہی مسجد میں کوئی نعرے بازی کی گئی۔ پوسٹر مسجد کے باہری دیواروں پرلگائے گئے۔ دہشت گرد اور پاکستان کے خلاف لگائے گئے پوسٹرصرف مسجد کی دیواروں پرہی نہیں بلکہ آس پاس کے پورے علاقے میں لگائے گئے تھے۔
مسجد کے باہر مذہبی نعرے بازی کی وجہ سے گرفتاری کا مطالبہ
حالانکہ مسلم طبقے کا کہنا ہے کہ ان کا غصہ دشمن ملک کے خلاف نعرے بازی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ مسجد کے باہر جو مذہبی نعرے لگاکر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی، اس کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راجستھان اور جے پورکا ماحول خراب کرنے کی کوشش کرنے والے بی جے پی رکن سمبلی بالمکند آچاریہ کی گرفتاری کی جائے تاکہ کوئی بھی شخص یا لیڈراس طرح سے ماحول خراب کرنے کی کوشش نہ کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


