Bharat Express DD Free Dish

Rajasthan Police

پولیس نے دونوں کو جودھپور کے کیلاش نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے سے گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت 23 سالہ جسکرن سنگھ عرف کٹا اور راجندر سنگھ عرف بِلّا کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں پنجاب کے فاضلکا ضلع کے رہنے والے ہیں۔

سرحدی علاقے میں کھیت میں غبارہ ملنے سے ہلچل، پولیس نے موقع پر پہنچ کر کی باریک بینی سے جانچ، اندر کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔ اس کے بعد پولیس اور مقامی لوگوں نے راحت کی سانس لی۔

حکم کے مطابق 7 جون کی رات 12 بجے سے 8 جون کی رات 12 بجے تک جے پور پولیس کمشنریٹ کے تحت آنے والے تمام علاقوں اور جے پور نارتھ و جے پور ایسٹ اضلاع کے تمام تھانوں کی حدود میں 2جی، 3جی، 4جی اور 5جی موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں گی۔ اس دوران واٹس ایپ، فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی بھی بند رہے گی۔

تحریک کی وجہ سے رکن اسمبلی رویندرسنگھ بھاٹی خود کئی دنوں سے دھرنے پربیٹھے ہوئے ہیں۔ 9 اپریل سے اس آندولن کی شروعات ہوئی۔ اس طرح سے گزشتہ 39 دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ ایسے میں آج احتجاج کی جگہ سے کلکٹریٹ احاطے تک آندولن کررہے مزدوروں کے ساتھ رویندرسنگھ بھاٹی بھی پہنچے۔

راجستھان میں غیر قانونی شراب کے خلاف جاری خصوصی مہم کے تحت محکمہ آبکاری نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 1 لاکھ 40 ہزار 402 لیٹر واش (کچی شراب تیار کرنے والا محلول) کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف اضلاع میں کارروائی کے دوران 172 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 633 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

راجستھان کے تعلیمی شہر کوٹہ میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں جے ای ای کی تیاری کر رہے بارہویں جماعت کے ایک طالب علم نے ٹرین کے آگے کود کر اپنی جان دے دی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جے پور میں 8,000 سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعیناتی کے خطوط فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں اب نوکری سفارش پر نہیں بلکہ قابلیت کی بنیاد پر دی جا رہی ہے اور بھجن لال شرما حکومت نے پیپر لیک پر روک لگا دی ہے۔

راجستھان کے بھیلواڑا ضلع میں ریلوے لائن کے قریب 25 سے 30 سالہ ایک نامعلوم عورت کی سڑی ہوئی لاش ملنے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گئی ہے۔ پولیس نے لاش کی حالت اور مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے حادثہ یا قتل، دونوں زاویوں سے تفتیش کا موضوع بنایا ہے۔

کوٹپوتلی-بہروڑ ضلع میں 2.58 کروڑ روپے کی تانبے کی چوری کے معاملے میں پولیس نے محض 10 گھنٹوں کے اندر مال برآمد کر کے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

حراست میں لیے گئے بعض افراد نے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایک زیر حراست شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے پتھراؤ میں حصہ نہیں لیا اور اس کے گھر سے ملنے والا ملبہ غلط طور پر اس کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا، ’’میں نے ایک پتھر تک نہیں اٹھایا۔‘‘ ایک اور شخص نے بھی اپنے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے سے انکار کیا۔