بہار اسمبلی الیکشن 2025۔
پٹنہ: آر جے ڈی کے الزامات پر الیکشن کمیشن نے وضاحت پیش کی۔ کمیشن نے سلو ووٹنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام پوری طرح بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ بہار کے تمام پولنگ مراکز پر ووٹنگ پرسکون اور منظم طریقے سے جاری ہے۔ بھارت الیکشن کمیشن ووٹنگ کے عمل کو غیرجانبدار، شفاف اور بلا رکاوٹ بنانے کے لیے تمام معیاری پروٹوکول پر عمل کر رہا ہے۔
آر جے ڈی نے لگائے سلو ووٹنگ کے الزامات
بتاتے چلیں کہ راشٹریہ جنتا دل نے بہار کی 121 اسمبلی نشستوں پر جاری ووٹنگ کے دوران سلو ووٹنگ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ آر جے ڈی کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر سلو ووٹنگ کرائی جا رہی ہے۔ پارٹی نے صاحب گنج اسمبلی حلقے میں ووٹنگ کے دوران بے ضابطگیوں کے بھی الزامات لگائے ہیں۔
آر جے ڈی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے درمیان مہاگٹھ بندھن کے مضبوط بوتھوں پر ووٹنگ کو سست کرنے کے مقصد سے درمیان درمیان میں بجلی کاٹ دی جا رہی ہے۔ جان بوجھ کر سلو ووٹنگ کرائی جا رہی ہے۔‘‘
ووٹروں کی پٹائی اور دھمکانے کا الزامات
ایک اور پوسٹ میں آر جے ڈی نے الزام لگایا، ’’محی الدین نگر اسمبلی حلقے کے بوتھ نمبر 106، 107 اور 108 پر پولیس اہلکار مختلف گھروں میں گھس کر بلا وجہ ووٹروں کو بے رحمی سے پیٹ رہے ہیں اور دھمکا رہے ہیں۔‘‘
صاحب گنج اسمبلی حلقے کا حوالہ دیتے ہوئے آر جے ڈی نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’صاحب گنج-98 اسمبلی کے بوتھ نمبر 147 پر جب ووٹر پہنچ رہے ہیں تو ان سے کہا جا رہا ہے کہ تمہارا ووٹ ڈال دیا گیا ہے۔‘‘
آر جے ڈی نے الیکشن کمیشن پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئین کا ایسا بھونڈا مذاق نہ بنایا جائے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے ان تمام معاملات پر فوراً نوٹس لینے کی مانگ کی۔
آر جے ڈی کی ترجمان پرینکا بھارتی کا دعویٰ
اس کے علاوہ، آر جے ڈی کی ترجمان پرینکا بھارتی نے دعویٰ کیا کہ داناپور کے نصیر گنج گھاٹ پر ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں کا الزام ہے کہ پولیس کشتی کو بوتھ تک نہیں جانے دے رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کیا اس معاملے کا نوٹس لے کر اپنی غیرجانبداری دکھائے گا؟
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
