بہار این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم تقریباً فائنل ہوگئی ہے۔
بہارمیں اسمبلی الیکشن سے متعلق این ڈی اے میں سیتوں کی تقسیم تقریباً طے ہوچکی ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یوکے درمیان سیٹوں پرتال میل ہوگئی ہے۔ دونوں پارٹیاں برابرسیٹوں پرالیکشن لڑسکتی ہیں، جبکہ چراغ پاسوان کی ایل جے پی (آر) 40 سیٹوں کا مطالبہ کررہی ہے۔ جیتن رام مانجھی کی ہم پارٹی اوراوپیندرکشواہا کی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آرایل ایم) کے کھاتے میں 7-6 سیٹیں جاسکتی ہیں۔ا
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جے ڈی یواوربی جے پی 100 سے 105 سیٹوں پرالیکشن لڑسکتی ہے۔ 2020 کے اسمبلی الیکشن میں جے ڈی یونے 115 اوربی جے پی نے 110 سیٹوں پرالیکشن لڑا تھا۔ اس وقت این ڈی اے کا حصہ رہی وی آئی پی نے 11 اورہم نے 7 سیٹوں پرالیکشن لڑا تھا۔ گزشتہ الیکشن میں لوک جن شکتی پارٹی این ڈی اے کے ساتھ نہیں تھی اوراس نے اکیلے 135 سیٹوں پرالیکشن لڑا تھا، لیکن اسے صرف ایک سیٹ ملی تھی۔ بی جے پی کو 74 سیٹیں ملی تھیں جبکہ جے ڈی یو کو 43 سیٹیں ملیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار بھی جے ڈی یو 100 سیٹوں سے کم پرراضی نہیں ہوگی۔
اسی سال ہونے والے والے الیکشن کے لئے چراغ پاسوان کی پارٹی ایل جے پی 40 سیٹوں کا مطالبہ کررہی ہے، لیکن اسے تقریباً آدھی سیٹیں مل سکتی ہیں۔ باقی سیٹیں جیتن رام مانجھی ہم اوراپیندرکشواہا کی پارٹی آرایل ایم کو دی جاسکتی ہیں۔ اگرمکیش سہنی کی پارٹی وی آئی پی جو فی الحال آرجے ڈی-کانگریس اتحاد میں شامل ہے، پالا بدلتی ہے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ حالانکہ اب ان کے پالا بدلنے کی گنجائش کم ہے۔ وہ راہل گاندھی اورتیجسوی یادو کے ساتھ مسلسل رتھ پرسوارہیں۔
این ڈی اے کے ایک بڑے لیڈرکا کہنا ہے کہ گزشتہ بارایل جے پی کی وجہ سے جے ڈی یوکی پرفارمنس کافی خراب رہی تھی۔ پارٹی کے پاس ابھی بھی بہارکے تقریباً 10 فیصد ووٹ ہیں۔ خاص طورپرپسماندہ طبقہ (ای بی سی) میں۔ الیکشن نتیش کمارکی قیادت میں لڑا جا رہا ہے۔ پورا دھیان انہیں پھرسے وزیراعلیٰ بنانے پرہے۔ جے ڈی یوکا بی جے پی سے کم سیٹوں پرالیکشن لڑنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ حالانکہ اتحادیوں کوایڈجسٹ کرنے کے لئے کچھ تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔
وہیں جے ڈی یوکے لیڈران کا ترک ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں جس کے اسمبلی حلقہ میں سبقت ہے، اسے کم ازکم اتنی سیٹیں ملنی چاہئے۔ این ڈی اے کی کچھ اتحادی پارٹیاں بھی چاہتی ہیں کہ سیٹوں کی تقسیم اسٹرائیک ریٹ کے لحاظ سے ہو۔ ہم پارٹی اورایل جے پی (آر) اپنا اسٹرائیک ریٹ بہترمان رہی ہے۔ وہ بھی اسی بنیاد پردعویٰ ٹھوک رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



