Bharat Express DD Free Dish

JDU-BJP

نتیش کمار نے راجیہ سبھا رکن منتخب ہونے کے بعد وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ جے ڈی یو کی نیشنل کونسل نتیش کمار کے جے ڈی یو کے قومی صدر کے انتخاب کو باضابطہ طور پر منظوری دے گی۔ اجلاس میں تنظیم سازی اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔

نتیش کمار کے استعفیٰ دینے کے بعد سمراٹ چودھری کو بی جے پی کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد این ڈی اے نے بھی انہیں اپنا لیڈرتسلیم کیا۔ انہوں نے گورنر ہاوس پہنچ کربہار میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔

نتیش کمار کے استعفیٰ دینے کے بعد بی جے پی اراکین اسمبلی کی میٹنگ کے دوران وجے کمارسنہا نے سمراٹ چودھری کو پارٹی کا لیڈر منتخب کرنے کی تجویز پیش کی، جس پر تمام اراکین اسمبلی نے مہرلگائی۔ مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان کیا۔

نتیش کمار نے بہار کے وزیراعلیٰ عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے راج بھون پہنچ کر گورنر کو اپنا استعفیٰ سونپا۔ نتیش کمار نے بہار کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت کو میرا پورا تعاون ہوگا۔ اب نئی حکومت یہاں کا کام دیکھے گی۔

سمراٹ چودھری بہار کے نئے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ وہ نتیش کمارکی جگہ لیں گے۔ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے بعد یہ عہدہ خالی ہورہا ہے۔ حلف برداری تقریب کل یعنی 15 اپریل کو 11 بجے ہوگی۔ سمراٹ چودھری کے علاوہ دو نائب وزرائے اعلیٰ بھی حلف لیں گے۔

بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارنے کہا کہ کل میں راجیہ سبھا رکن کا حلف لوں گے۔ بہت وقت تک وہاں (بہار میں) کام کیا۔ بیٹے نشانت کمار سے متعلق کہا کہ ان کے بارے میں ہمارے لیڈر بتائیں گے۔

بہارمیں نتیش حکومت کی کابینہ توسیع کی تیاری تیزہوگئی ہیں۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں 12-11 نئے وزرا کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے حال ہی میں وزیراعظم مودی اورامت شاہ سے ملاقات کرکے اس حکمت عملی پرتبادلہ خیال کیا تھا۔

بہاراین ڈی اے میں سیٹ شیئرنگ کا معاملہ طے مانا جا رہا ہے۔ حالانکہ ابھی پوری طرح تصویرصاف نہیں ہوئی ہے، لیکن یہ ضرور طے ہے کہ جے ڈی یو100 سے کم سیٹوں پرالیکشن نہیں لڑے گی۔

بی جے پی کے قومی صدرجے پی نڈا سے وزیراعلیٰ نتیش کمارکی ملاقات کے بعد بہارمیں کابینہ کی توسیع پرمہر لگ گئی ہے۔ آج یعنی بدھ کی شام 4 بجے کابینہ کی توسیع کی جائے گی۔

بہارمیں آرجے ڈی رکن اسمبلی بھائی ویریندرکے بیان سے سیاسی سرگرمیاں تیزہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہارمیں کھیلا ہوا ہے اور آگے بھی ہوگا، سیاست صورتحال کا کھیل ہے۔