Bihar Floor Test: اودھ بہاری چودھری کو اسپیکر عہدے سے ہٹایا گیا، ڈپٹی اسپیکر کی نگرانی میں ہوگا فلور ٹسٹ

بہار اسمبلی میں فلورٹسٹ سے پہلے اودھ بہاری چودھری کو اسمبلی اسپیکر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اب ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کی کارروائی چلا رہے ہیں۔

آرجے ڈی لیڈر اودھ بہاری چودھری بہار اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔ (تصویر: اے این آئی)

بہاراسمبلی میں فلورٹسٹ سے پہلے اسمبلی اسپیکراودھ بہاری چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف بی جے پی اورجے ڈی یو کے طرف سے تحریک عدم اعتماد کی تجویز پیش کی گئی تھی، جس کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ اودھ بہاری چودھری کو ہٹائے جانے کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 125 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیئے جبکہ اس خلاف 112 ووٹ دیئے گئے۔ اس سے قبل، اودھ بہاری چودھری نے کرسی چھوڑدیا تھا اوران کی جگہ پرڈپٹی اسپیکرنے اسمبلی کی کارروائی چلائی اوراسپیکرکو ہٹائے جانے کی تحریک عدم اعتماد کی تجویزپرووٹنگ کرائی۔ اس سے قبل، خبرآرہی ہے کہ نتیش کمارحکومت کے حق میں 2 آرجے ڈی اراکین اسمبلی نیلم دیوی اورچیتن آنند آگئے ہیں۔

اسمبلی اسپیکرکو ہٹائے جانے کی بازی نتیش کمار نے جیتی

بہاراسمبلی میں اسپیکرکے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویزلائی گئی۔ اسپیکراودھ بہاری چودھری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے حق میں 125 ووٹ پڑے ہیں  اور خلاف میں 112 ووٹ پڑے ہیں۔ اسمبلی اسپیکر کو ہٹانے کے لئے تجویز پیش کی گئی، جس پر بحث ہوئی۔ بحث کے بعد اس تجویزکو صوتی ووٹ سے منظورکرلیا گیا تاہم اپوزیشن کے اعتراضات کے بعد ووٹنگ کرائی گئی۔ اس کے بعد بھی نتیش کمارحکومت نے پہلی بازی جیت لی۔

آرجے ڈی کے دونوں اراکین اسمبلی کے جے ڈی یوخیمے میں جانے کے بعد ایک طرف نتیش کمارکی طاقت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ وہیں آرجے ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ نیلم دیوی اورچیتن آنند  کو برسراقتدارجماعت کے وہپ کے کمرے میں رکھا گیا ہے۔ آرجے ڈی لیڈرشکتی سنگھ یادو نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرجے ڈی کے دواراکین اسمبلی چیتن آنند اورنیلم دیوی کو برسراقتدارجماعت کے لوگوں نے وہپ کے کمرے میں بٹھایا ہے۔ دھمکی دلوائی اورکیا کیا کیا ہے، یہ بات ملک میں کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ آرجے ڈی کے اراکین اسمبلی کی میٹنگ چل رہی تھی۔ اراکین اسمبلی کی جہاں میٹنگ چل رہی تھی، وہاں انتظامیہ کے لوگ؟ مجسٹریٹ کی قیادت میں انتظامیہ اوراعلیٰ افسران تھے کہ ان کے گھرمیں پریشانی ہے۔ ان کے گھرکے لوگ پریشان ہیں۔

آرجے ڈی نے کہا- ایسے جمہوریت نہیں چلتا ہے…’

شکتی سنگھ یادو نے کہا کہ انہیں لے جانے کے لئے مجبورکیا گیا ہے اورلے گئے۔ ابھی دونوں برسراقتدارکے وہپ کے کمرے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کون سا ٹرینڈنگ ہے، ہمیں کوئی بتا دے۔ بی جے پی پرحملہ کرتے ہوئے شکتی سنگھ نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو بس میں لے جرکوئی میٹنگ کرتا ہے تو وہ راس لیلا اورہم اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کرکے بات کر رہے ہیں تو کیریکٹرڈھیلا؟ ایسے جمہوریت نہیں چلتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Also Read