22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گرد حملے کے ردعمل میں بھارت نے “آپریشن سندور” کا آغاز کیا، جس کے ذریعے پاکستان پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی کہ آج دنیا بھر میں اس کا چرچا ہے۔ یہ آپریشن بھارتی مسلح افواج کے لیے ایک تاریخی کامیابی ثابت ہوا۔ بری فوج، فضائیہ اور بحریہ—تینوں افواج نے پاکستان کو تینوں محاذوں پر گھیرے میں لے لیا تھا۔
بحریہ کا اہم کردار
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں بھارتی بحریہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بحیرہ عرب میں کراچی کے قریب بھارتی بحریہ کے 36 جنگی جہاز تعینات تھے، جن میں آئی این ایس وکرانت، ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزیں اور تیز حملہ آور کشتیاں شامل تھیں۔ 8 سے 10 جنگی جہازوں کو آگے کی صفوں میں تعینات کیا گیا تھا۔
1971 کی جنگ کے مقابلے 6 گنا زیادہ جنگی بحری جہاز
1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ کے دوران بھارتی بحریہ نے کراچی پر حملہ کرنے کے لیے صرف 6 جنگی جہاز تعینات کیے تھے، لیکن “آپریشن سندور” کے دوران 36 جنگی جہاز تعینات کیے گئے—یعنی 1971 کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ۔ آئی این ایس وکرانت کے ساتھ 8 سے 10 جنگی جہازوں کے گروپ کو تعینات کیا گیا تھا، جس میں تباہ کن جہاز (ڈسٹرائرز)، فریگیٹس اور دیگر معاون جہاز شامل تھے۔
بحریہ ہائی الرٹ پر تھی
بحریہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا اور وہ صرف اعلیٰ کمان کے حکم کا انتظار کر رہی تھی۔ پاکستان کی طرف سے ممکنہ حملے کے پیشِ نظر NAVAREA (جس کا مطلب ہے “نیویگیشن ایریا”، یعنی شپنگ ایریا۔ یہ میریٹائم سیفٹی کے لیے ایک بین الاقوامی سروس ہے جو جہازوں کو اہم بحری انتباہات اور معلومات فراہم کرتی ہے) الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ اس تعیناتی میں برہموس میزائل، درمیانی فاصلے تک مار کرنے والی زمین سے فضا میں مار کرنے والی میزائلیں، ہیوی ویٹ ٹارپیڈوز سے لیس 7 ڈسٹرائرز شامل تھے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں شامل کیے گئے آئی این ایس تُشیل اور اسٹیلتھ گائیڈڈ میزائل فریگیٹ بھی تعینات کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اندازہ ہے کہ سطحِ آب کے نیچے 6 آبدوزوں نے کوآرڈینیشن (ہم آہنگی) کا کام کیا۔ آپریشن میں فاسٹ اٹیک کرافٹ اور میزائل بوٹس بھی شامل تھیں۔ دوسری طرف پاکستان کی بحریہ صرف کراچی بندرگاہ تک محدود رہی اور بھارتی بحریہ کی زبردست موجودگی کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہی۔ اس صورتحال کے باعث بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو بھی اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


