Bharat Express DD Free Dish

Assam New Government Formation: آسام میں نئی این ڈی اے حکومت 12 مئی کو لے گی حلف، وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں ایک لاکھ افراد کی شرکت متوقع

نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب 12 مئی کو گوہاٹی کے خاناپارا علاقے میں واقع ویٹرنری کالج میدان میں منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ خصوصی طور پر شرکت کریں گے، جبکہ این ڈی اے کے کئی سینئر لیڈر اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود رہیں گے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد یعنی این ڈی اے کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ ریاستی سیاست میں اپنی مضبوط گرفت برقرار رکھتے ہوئے بی جے پی نے مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی راہ ہموار کر لی ہے۔ آسام بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ ساکیا نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب 12 مئی کو گوہاٹی کے خاناپارا علاقے میں واقع ویٹرنری کالج میدان میں منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ خصوصی طور پر شرکت کریں گے، جبکہ این ڈی اے کے کئی سینئر لیڈر اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود رہیں گے۔

دلیپ ساکیا کے مطابق حلف برداری کی تقریب صبح 11 بجے شروع ہوگی اور اسے تاریخی اور شاندار بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مختلف اضلاع سے ایک لاکھ سے زائد افراد کے اس تقریب میں شرکت کرنے کی توقع ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں اور پورے گوہاٹی شہر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا جائے گا تاکہ تقریب پُرامن انداز میں مکمل ہو سکے۔ وزیر اعظم نریندر مودی 12 مئی کی صبح تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر گوہاٹی ہوائی اڈے پہنچیں گے، جہاں سے وہ سیدھے تقریب کے مقام پر روانہ ہوں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے علاوہ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا، متعدد مرکزی وزرا اور این ڈی اے کے زیر اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی اس تقریب میں شریک ہوں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس تقریب کو نہ صرف آسام بلکہ پورے شمال مشرقی خطے کے لیے سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔

حکومت سازی کے عمل کے تحت 10 مئی کو بی جے پی اور این ڈی اے کے نومنتخب ارکان اسمبلی کی اہم میٹنگ منعقد ہوگی۔ اس اجلاس میں جے پی نڈا اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی بطور آبزرور شریک ہوں گے۔ اسی اجلاس میں قانون ساز پارٹی کے نئے لیڈر کا باضابطہ انتخاب کیا جائے گا، جس کے بعد وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ 12 مئی کو حلف اٹھائے گی۔ ذرائع کے مطابق موجودہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما کو ایک بار پھر ریاست کی قیادت سونپی جا سکتی ہے۔ آسام کی 126 رکنی اسمبلی میں این ڈی اے نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے پاس 102 نشستیں ہیں، جو اکثریت کے مطلوبہ ہندسے سے کہیں زیادہ ہیں۔ دوسری جانب کانگریس اتحاد صرف 21 نشستوں تک محدود رہا، جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے حصے میں تین نشستیں آئیں۔ اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر کانگریس اور اے آئی یو ڈی ایف اس انتخاب میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہیں۔

آسام کی سیاست میں بی جے پی کا سفر گزشتہ ایک دہائی میں غیر معمولی رہا ہے۔ 2016 میں پارٹی نے پہلی بار سربانند سونووال کی قیادت میں حکومت بنائی تھی، جس کے بعد 2021 میں این ڈی اے نے دوبارہ اقتدار حاصل کیا اور ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما وزیر اعلیٰ بنے۔ اب 2026 میں مسلسل تیسری بار بی جے پی اتحاد کی حکومت بننا ریاستی سیاست میں ایک نیا ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما اس وقت آسام کی سیاست کے سب سے بااثر لیڈروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کانگریس سے کیا تھا، لیکن 2015 میں بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ان کی سیاسی حیثیت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ انہیں شمال مشرق میں بی جے پی کا مضبوط چہرہ مانا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ان کے اقدامات کو کافی سراہا گیا ہے۔ ان کی انتظامی صلاحیت اور عوامی رابطے کی وجہ سے انہیں عوامی حلقوں میں ”ماما“کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آسام میں این ڈی اے کی حالیہ کامیابی کے پیچھے بھی ہیمنت بسوا شرما کی حکمت عملی اور عوامی مقبولیت کا بڑا کردار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read