نئی دہلی :دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں عدالت سے بریت ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال شدید جذباتی ہوگئے اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران آبدیدہ نظر آئے۔ عدالت کے فیصلے کے فوراً بعد جب وہ میڈیا سے بات کرنے آئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ جس معاملے کو شراب گھوٹالہ قرار دے کر ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، آج عدالت نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ ہمیشہ جیتتا ہے اور وہ معزز جج کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے انصاف فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا نے بھی ان کے ساتھ انصاف کیا ہے۔جذباتی انداز میں کیجریوال نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں انہیں ایک فرضی مقدمے میں پھنسایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد بھارت کی تاریخ میں پہلی بار کسی حاضر سروس وزیر اعلیٰ کو اس طرح گھر سے نکالا گیا۔ ان کے مطابق عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ بے بنیاد تھا۔
आख़िर में अधर्म और अन्याय हारता है और सच ही जीतता है।
सत्यमेव जयते pic.twitter.com/GZghEdhJf3
— Arvind Kejriwal (@ArvindKejriwal) February 27, 2026
رونے کے دوران کیجریوال نے کہا کہ ’’کیجریوال بدعنوان نہیں ہے‘‘ اور عدالت نے ثابت کر دیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے لیے آئین کے ساتھ اس طرح کا کھیل نہ کھیلا جائے۔
सत्यमेव जयते 🙏
अरविंद केजरीवाल जी ने अपना पूरा जीवन पूरी ईमानदारी से जिया है, उनका एक ही लक्ष्य है कि भारत खूब तरक्की करे।
लेकिन इन लोगों ने सत्ता के लालच में हमारे ऊपर तमाम झूठे आरोप लगाए, अरविंद केजरीवाल जी और उनके साथियों को बदनाम और परेशान किया।
इस मुश्किल समय में जिन… pic.twitter.com/1R612SDaJL
— AAP (@AamAadmiParty) February 27, 2026
عدالت کا فیصلہ کیا رہا؟
دہلی کی مبینہ ایکسائز پالیسی بدعنوانی کیس میں راؤز ایونیو کورٹ کی خصوصی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سمیت تمام ملزمان کو الزامات سے بری کر دیا۔ یہ حکم خصوصی جج جتیندر سنگھ نے جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی تحقیقات پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیجریوال اور منیش سسودیا کو بغیر مضبوط شواہد کے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ عدالت کے مطابق تفتیشی ایجنسی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں کئی خامیاں موجود تھیں اور الزامات کسی معتبر گواہی یا ثبوت سے ثابت نہیں ہو سکے۔
عدالت نے واضح طور پر کہا کہ منیش سسودیا کے خلاف ابتدائی طور پر بھی مقدمہ قائم کرنے کے لیے مناسب مواد پیش نہیں کیا جا سکا، جبکہ اروند کیجریوال کو بھی ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر کیس میں شامل کیا گیا۔ عدالت نے تمام 23 ملزمان کو بری کرتے ہوئے کسی کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کر دیا اور تحقیقات کے طریقہ کار پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی۔اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے قومی سیاست پر اثرات نمایاں ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
