نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی دو نئی کتابوں کی رسم اجرا کی تقریب میں عدلیہ، آئین اور جمہوریت کے باہمی تعلقات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ وہ اس تقریب میں کسی بھی قسم کا متنازعہ بیان نہیں دیں گے کیونکہ وہ یہاں اپنے تین دہائیوں پرانے دوست کی کتابوں کی رونمائی کے لیے آئے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ آنے والے دنوں میں کسی دوسرے پلیٹ فارم سے وہ عدلیہ، قانون اور انصاف کے موضوع پر اپنے خیالات ضرور پیش کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ان کے بیانات کو صرف ایک دوست کی رائے کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا بلکہ انہیں حکومت اور عدلیہ کے تعلقات کے تناظر میں بھی سمجھا جائے گا۔ اسی لیے وہ اس پروگرام کو کسی سیاسی یا قانونی تنازعہ کا مرکز نہیں بنانا چاہتے۔ ان کے اس تبصرے پر تقریب میں موجود لوگوں نے مسکراتے ہوئے تالیاں بجائیں۔
وزیر داخلہ نے بھارت کے جمہوری سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 76 برسوں میں ملک نے جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی عوام کو اس بات پر مکمل بھروسہ ہے کہ اگر ان کے حقوق پر کوئی ضرب پڑی تو عدلیہ ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ ان کے مطابق آئین اور عدلیہ نے ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تعلق تصادم کا نہیں بلکہ توازن، احترام اور آئینی حدود کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین نے دونوں اداروں کو اس انداز میں تشکیل دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو متوازن رکھ سکیں اور یہی روایت گزشتہ 75 برسوں سے بھارتی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1947 سے اب تک پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے ذریعے جتنی بھی بڑی تبدیلیاں آئیں، عوام نے انہیں پرامن طریقے سے قبول کیا، اور یہی ہندوستانی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔ وزیر داخلہ نے اس موقع پر جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر بھی بات کی اور کہا کہ عدالتی نظام کو نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ ضرور اٹھانا چاہیے، لیکن اس کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف صرف قانون کی کتابوں سے نہیں بلکہ کھلی عدالت میں دلائل سننے، تجربے اور انسانی فہم کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ امت شاہ کے مطابق مصنوعی ذہانت عدالتی عمل میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، لیکن انسانی سوچ اور عدالتی بصیرت کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔
تقریب کے دوران امت شاہ نے تشار مہتا کی کتابوں میں شامل دلچسپ واقعات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کتابوں میں دنیا کے مختلف ممالک کی عدلیہ سے جڑے کئی طنزیہ اور دلچسپ واقعات شامل ہیں، جنہیں نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ ان میں ایک جج کا شکار کرتے ہوئے فیصلہ لکھنا اور دو جڑواں بہنوں کا جج اور وکیل بن کر عدالتی کارروائی چلانے جیسے قصے بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ نے مزاحیہ انداز میں تشار مہتا سے کہا کہ غیر ملکی عدالتی واقعات کے ساتھ ساتھ انہیں بھارتی عدالتی نظام پر بھی اسی طرز کی کتاب لکھنی چاہیے، کیونکہ اس سے قارئین کو ہندوستانی عدلیہ کے دلچسپ اور انسانی پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔ تقریب میں قانونی شعبے سے وابستہ کئی اہم شخصیات، وکلا اور عدالتی حکام نے شرکت کی۔ امت شاہ کی تقریر کو نہ صرف سنجیدہ بلکہ متوازن اور دوستانہ انداز کی تقریر قرار دیا جارہا ہے، جس میں انہوں نے عدلیہ اور جمہوریت کے تعلق کو مثبت انداز میں پیش کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
