سنبھل جامع مسجد کے صدر ظفر علی کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔
سنبھل جامع مسجد سے متعلق ایک بڑی خبرسامنے آرہی ہے۔ مسجد کے صدرایڈوکیٹ ظفرعلی کوالہ آباد ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے ظفرعلی کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ اب جلد ہی ظفرعلی جیل سے باہرہوں گے۔ جسٹس سمیرجین کی سنگل بینچ نے ضمانت عرضی کومنظوری دی ہے۔ دراصل، یہ پورا معاملہ سنبھل جامع مسجد سروے کے دوران تشدد سے متعلق ہے۔
پولیس نے 23 مارچ کوکیا تھا گرفتار
یوپی پولیس نے دعویٰ کیا کہ مسجد کے صدرظفرعلی ایڈوکیٹ، سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق اورسنبھل کے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی اقبال محمود کے بیٹے سہیل اقبال کی وجہ سے تشدد بھڑک اٹھی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آردرج کی تھی۔ 23 مارچ 2025 کو پولیس نے تفتیش کے دوران ظفرعلی کوگرفتارکرلیا گیا۔ تقریباً 4 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد ظفرعلی کی درخواست ضمانت منظورکی گئی ہے۔
سیشن کورٹ سے خارج ہوگئی تھی عرضی
آپ کو بتا دیں کہ ظفرعلی ایڈوکیٹ کی ضمانت کے لئے ان کے اہل خانہ نے سیشن کورٹ میں بھی درخواست داخل کی تھی، لیکن ان کی عرضی خارج ہوگئی تھی۔ اس کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جہاں سے انہیں کامیابی مل گئی۔ ظفرعلی 23 مارچ سے جیل میں بند ہیں، آج انہیں 4 ماہ کے بعد ضمانت ملی ہے۔ امید ہے کہ 25 جولائی کووہ جیل سے باہرآجائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




