Bharat Express DD Free Dish

Zafar Ali

سنبھل جامع مسجد کمیٹی کے صدرظفرعلی ایک بار پھرتنازعہ میں گھرگئے ہیں۔ ظفرعلی اوران کے 50 سے 60 حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان پر جلوس نکالنے کا الزام ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ سے سنبھل جامع مسجد کے صدر ایڈوکیٹ ظفر علی کو ضمانت مل گئی ہے۔ جسٹس سمیرجین کی سنگل بینچ نے ضمانت عرضی کو منظوری دی ہے۔ 23 مارچ 2025 کو پولیس نے تفتیش کے دوران ظفرعلی کوگرفتارکرلیا گیا۔

اترپردیش کے سنبھل میں نومبر 2024 کے تشدد کے سلسلے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق سے پوچھ گچھ ہوئی۔ جمعہ مسجد کمیٹی کے ظفر علی سے پہلے ہی تفتیش ہو چکی ہے

اترپردیش واقع سنبھل میں گزشتہ سال نومبر میں ہوئے تشدد سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کے کردار پرسوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

ظفر علی کے بڑے بھائی محمد طاہر نے الزام لگایا تھا کہ یہ ’غیر آئینی اقدام‘ صدر کو عدالتی کمیشن میں بیان دینے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس ظفر علی کو جیل بھیجنا چاہتی ہے۔ پولیس چاہتی ہے کہ وہ کوئی بیان نہ دیں۔ لیکن وہ وہی بیان دیں گے جو انہوں نے کمیشن کے سامنے دیا ہے۔