Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav on Citizenship Amendment Act: ملک میں سی اے اے کے نفاذ پر اکھلیش یادو کا پہلا ردعمل، جانئے ایس پی سربراہ نے کیا کہا؟

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے، بی جے پی حکومت کو بتانا چاہیے کہ ان کے 10 سال کے دور حکومت میں لاکھوں شہری کیوں ملک چھوڑ گئے۔ انتخابی بانڈ اور پھر ‘کیئر فنڈ’ بھی۔”

بھارت میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) نافذ ہو گیا ہے۔ مرکز کی مودی حکومت نے اس کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ملک میں سی اے اےکے نفاذ کو لے کر سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کا پہلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایس پی سربراہ اکھلیش نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے شہریوں کو روزی روٹی کے لیے باہر جانے پر مجبور کیا جائے تو دوسروں کے لیے شہریت کا قانون لانے سے کیا ہوگا۔

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے، بی جے پی حکومت کو بتانا چاہیے کہ ان کے 10 سال کے دور حکومت میں لاکھوں شہری کیوں ملک چھوڑ گئے۔ انتخابی بانڈ اور پھر ‘کیئر فنڈ’ بھی۔”

آپ کو بتاتے چلیں کہ سی اے اے کے ذریعے مودی حکومت نے لوک سبھا انتخابات سے قبل تین ممالک کے غیر مسلموں (اقلیتوں) کو ہندوستانی شہریت دینے کے قانون کو نافذ کرنے کی تیاری کی تھی۔ اس کے لیے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک پورٹل بھی تیار کیا گیا ہے اور کوئی بھی اس پورٹل پر شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ شہریت ترمیمی قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیر ہندوؤں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ سی اے اے کے تحت ان ممالک سے آنے والے ہندو، عیسائی، سکھ، جین، بدھ اور پارسی برادریوں کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا انتظام ہے۔ سی اے اے کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے 11 دسمبر 2019 کو منظور کیا تھا۔ ایک دن بعد صدر نے اس کی منظوری دے دی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read